قومی سطح پر تلنگانہ کے تعلیمی اداروں کا معیار گھٹ گیا

   

عثمانیہ یونیورسٹی کو 70 ، جے این ٹی یو ایچ کو 88 واں رینک ، این آئی آر ایف کا اعلان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو دئیے گئے نیشنل انسٹی ٹیوشنل ریکنگ فریم ورک (NIRF) رینک میں تلنگانہ کی یونیورسٹیاں اور تعلیمی اداروں کا معیار گھٹ گیا ہے ۔ تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی ، تکنیکی تعلیم میں ملک کی پہلی یونیورسٹی جے این ٹی یو ایچ کے رینکس میں کمی آئی ہے ۔ دوسرے یونیورسٹیز کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ یہ رینک تعلیمی اداروں تعلیمی اداروں میں داخلے ، کورسیس کے معیار ملازمتوں کے مواقع ( پلیسمنٹس ) مالی وسائل اور تحقیق جیسے عوامل کی بنیاد تفویض کیے جاتے ہیں ۔ تلنگانہ کے صرف تین تعلیمی اداروں نے ملک کے مختلف زمروں میں ٹاپ 10 کی فہرست میں جگہ بنائی ہے ۔ انوویشن انسٹی ٹیوشنس IIT حیدرآباد کو تیسرا رینک حاصل ہوا ہے ۔ فارمیسی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارما سیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (NIPER) کو دوسرا رینک قانون کے تعلیمی اداروں میں نلسار یونیورسٹی نے تیسرا رینک حاصل کیا ہے ۔ مجموعی زمرے میں عثمانیہ یونیورسٹی گذشتہ سال 2023 میں 64 ویں مقام پر تھی جاریہ سال رینک گھٹ کر 70 ویں مقام پر پہونچ گیا ۔ یونیورسٹیز کے سطح پر گذشتہ سال 36 واں رینک تھا جاریہ سال یہ گھٹ کر 43 تک پہونچ گیا ۔ جے این ٹی یو حیدرآباد گذشتہ سال 83 مقام پر تھا جو اب گھٹ کر 88 ویں رینک پر پہونچ گیا ۔ آئی آئی ٹی حیدرآباد کا رینک بہتر ہوا ہے ۔ پہلے یہ 84 ویں مقام پر تھا لیکن اس مرتبہ یہ 74 ویں مقام پر پہونچ گیا ۔ کالجس کے سطح پر کسی بھی کالج کو ٹاپ 100 میں جگہ نہیں ملی ۔ این آئی آر ایف کے رینکس میں اس مرتبہ نئے سرکاری یونیورسٹیز ، سل یونیورسٹیز اور اوپن یونیورسٹیز کے لیے بھی رینکس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ریاستی سرکاری یونیورسٹیز کے زمرے میں 50 یونیورسٹیز کے درمیان مسابقت رہی ہے جس میں عثمانیہ یونیورسٹی کو چھٹواں مقام حاصل ہوا ہے ۔۔ 2