لاک ڈاون کے بعد خانگی اساتذہ سب سے زیادہ پریشان

   

کوئی پرسان حال نہیں۔ اسکول انتظامیہ بھی تنخواہیں جاری کرنے تیار نہیں
حیدرآباد۔تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے بعد سے سب سے پریشان کن صورتحال سے گذرنے والا طبقہ خانگی اساتذہ ہیں جن کی شکایت کسی جگہ سنی نہیں جا رہی ہے بلکہ ان کی آواز کو دبایا جا رہاہے جس کی وجہ سے وہ اس مقدس پیشہ کو ترک کرکے ضروریات زندگی کی تکمیل کیلئے مشکل ترین حالات کا شکار ہیں۔ دونوں شہروں ہی نہیں بلکہ بیشتراضلاع میں خانگی اساتذہ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے کیونکہ خانگی اسکول انتظامیہ کا کہناہے کہ انہیں فیس نہیں مل رہی ہے جس سے وہ اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کو تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ بیشتر خانگی اسکولوںکی جانب سے فیس کی وصولی کا سلسلہ جاری ہے اور کئی تعلیمی اداروں میں 60 فیصد سے زیادہ فیس وصول کی جاچکی ہے ۔ فیس وصولی کے باوجود اساتذہ کی تنحواہوں کی اجرائی سے گریز کیا جا رہاہے جو تکلیف دہ ہے۔ خانگی اسکولی اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے محکمہ تعلیم سے متعدد نمائندگیوںکے باوجود ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے اور اصولوں کو مرتب کرنے کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس سے خانگی اساتذہ کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ خانگی اسکولوں کے اساتذہ کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے اب تک بیشتر اسکولوں سے تنخواہوں کی اجرائی نہیں ہوئی اور بعض اسکولوں کی جانب سے آن لائن کلاسس میں مدد کرنے والے اساتذہ کو نصف تنخواہیں دی جارہی ہے جبکہ طلبہ سے مکمل فیس وصول کی جا رہی ہے۔ خانگی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں فیس وصول نہ ملنے سے وہ تنخواہوں کی اجرائی کے موقف میں نہیں ہیں اور اولیائے طلبہ اور سرپرستوں پر فیس کیلئے دباؤ ڈالے جانے کی صورت میں وہ سرکاری احکام کا حوالہ دے رہے ہیں اسی لئے وہ تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ انتظامیہ سے محکمہ تعلیم سے نمائندگی کی گئی کہ تعلیمی سال کے آخر میں اسکولوں کی کشادگی کو یقینی بنائیں تاکہ طلبہ سے سالانہ امتحانات سے قبل فیس وصول کی جاسکے اور تعلیم کو باقاعدہ بنانے کا عمل شروع کیا جائے۔