انصاف رسانی کے لیے چیف منسٹر پرواسی پرجاوانی میں متاثرین کی درخواست
حیدرآباد ۔ 21 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز) : لندن میں نوکری کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپیوں کا شکار نو متاثرین نے چیف منسٹر پرواسی پرجاوانی شکایت کے ازالے کے پلیٹ فارم سے رابطہ کر کے رقم کی وصولی کے لیے حکومتی مداخلت کا مطالبہ کیا جو مبینہ طور پر ’’ نندوس ورلڈ یو کے ‘‘ کے ذریعے چلائے جانے والے ریاکٹ سے متاثر ہوئے ۔ حیدرآباد ، ورنگل ، سکندرآباد ، گنٹور ، سدی پیٹ اور سورت سے تعلق رکھنے والے متاثرین نے الزام لگایا کہ انہیں برطانیہ میں ملازمتوں اور ورک ویزا کا لالچ دیا گیا اور ملزمین کو کروڑوں روپئے کی رقم دی گئی جن کی شناخت مدھوکر جاگرلا موڈی ، رامانندا اینی اور موہن راؤ جاگرلا موڈی کے طور پر کی گئی ہے ۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ نہ نوکریاں دی گئیں اور نہ ہی ویزے اور نہ ہی رقم واپس کی گئی ۔ متاثرین نے اپنی شکایات انچارج سی ایم پرواسی پرجاوانی اور تلنگانہ اسٹیٹ پلاننگ بورڈ کے وائس چیرپرسن جی وجیہ لکشمی کو پیش کیں ۔ جنہوں نے شکایت ملنے کے بعد وہ کارروائی کا یقین دلایا ۔ متاثرین نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ڈی جی پی سی وی آنند کو بھی درخواستیں پیش کیں اور متاثرین نے مطالبہ کیا کہ ای او ڈبلیو کی طرف سے ایک کیس اندراج کرنے اور تفصیلی تحقیقات ، ملزمان کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنے اور ان کی رقم کی وصول کی جائے ۔ متاثرین میں سے ایک برجیش کمار رمیش بائی جیوانی نے پہلے ہی اڈانکی یو پی ایس پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی تھی ۔ متاثرین نے بتایا کہ اس ملزم کے خلاف 4 جولائی کو آندھرا پردیش کے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ۔ متاثرین کی نمائندگی این آر آئی ایڈوائزری کمیٹی کے چیرمین ڈاکٹر بی ایم ونود کمار نے کی ۔۔ ش m/b