لڑکے و لڑکیوں کی شادیوں میں سادگی اختیار کرنے اور بیجار سومات سے اجتناب کا مشورہ

   

سیاست و ملت فنڈ کے زیر اہتمام 151 ویں دو بہ دو پروگرام کا کامیاب انعقاد ۔ والدین کی کثیر تعداد نے استفادہ کیا
حیدرآباد 26 جولائی (سیاست نیوز ) سیاست و ملت فنڈ کے زیراہتمام مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی طے کرنے شہر حیدرآباد میں ’دو بہ دو ملاقات پروگرام‘ جو کئی منازل طے کرکے آج 151 منزل پر پہنچ چکا ہے جس کیلئے اس 151 واں دو بہ دو پروگرام کو حسب سابق پروگراموں کی طرح آصف نگر، نزد مہدی پٹنم رائل ریجنسی گارڈن روبرو پٹرول پمپ میں رکھا گیا جس میں دونوں شہروں ہی نہیں بلکہ کئی مقامات سے والدین اور سرپرستوں کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے استفادہ کیا۔ اول جب والدین دو بہ دو ملاقات پروگرام میں پہونچتے ہیں تو اُن کیلئے لڑکا اور لڑکی کا بائیو ڈاٹا رجسٹریشن کروانا ہوتا ہے جس کی ایک سال تک رجسٹریشن کارڈ کی مدت ہے تاکہ وہ دو بہ دو ملاقات پروگرام ہوں یا سیاست و ملت فنڈ کے دفتر پہنچ کر بھی رشتوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ آج کے اس دو بہ دو پروگرام کا آغاز قاری سید الیاس باشاہ کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ شہ نشین پر جناب محمد احمد، سید الیاس باشاہ، ڈاکٹر محمد ناظم علی، صالح بن عبداللہ باحاذق موجود تھے۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے والدین پر زور دیا کہ وہ سیاست اور ملت فنڈ کے مقصد کو ذہن میں رکھیں اور جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خاں مرحوم اور جناب عامر علی خان نے بنیاد ڈالی ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں مرحوم کے فرزندان جناب اصغر علی خان اور جناب فخر علی خان اس دو بہ دو پروگرام کو سلجھے ہوئے انداز میں چلارہے ہیں جس کیلئے یہ پروگرام ملک ہی نہیں بیرونی ممالک میں اپنی شناخت بناچکا ہے۔ انھوں نے کہاکہ مسلم معاشرہ آج کل دن بہ دن نت نئے مسائل میں الجھتے جارہا ہے بالخصوص شادی کا مسئلہ تو سنگین صورتحال اختیار کرچکا اس لئے اس کو آسان سے آسان بنانے دو بہ دو پروگرام کے ذریعہ کوشش ثمرآور ثابت ہورہی ہے تاکہ اس کے ذریعہ ایک مثالی شادی جو رسومات سے پاک انجام دی جاسکے۔ انھوں نے کہاکہ ان دنوں شادیوں میں بڑھتی جہیز کی مانگ، ویڈیو گرافی، بے جا رسومات نے بڑے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ ڈاکٹر الیاس باشاہ نے کہاکہ والدین کو چاہئے کہ اپنے لڑکا اور لڑکی کا رشتہ طے کرنے من گھڑت اور من پسند تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھیں بلکہ سادگی اختیار کریں۔ انھوں نے کہاکہ مسلمانوں نے غیروں کی تہذیب و اقدار کو اپنالیا ہے جس لئے آج کئی مسائل سے دوچار ہو رہی ہیں۔ جب اُن کے ہاں قرآن و سنت کے ساتھ اسلامی تہذیب موجود ہے جو شادی اسلامی اقدار پر انجام دی جائے گی وہ آگے چل کر معاشرہ کیلئے بھلائی و فلاح و بہبود کا کام کرسکے گی۔ انھوں نے کہاکہ شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی اپنی زندگی کی شروعات میں صبر و تحمل، ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں۔ آج کے اس دو بہ دو ملاقات پروگرام میں جناب اصغر علی خان اور جناب فخر علی خان سے والدین اور دوسروں نے ملاقات کرکے دو بہ دو پروگرام سے آگہی حاصل کی اور خوشنودی کا اظہار کرکے کہاکہ یہ پروگرام لڑکیوں اور لڑکوں کے رشتہ ازدواج سے جوڑنے ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس دو بہ دو ملاقات پروگرام میں تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے میڈیسن، انجینئرنگ، پوسٹ گریجویٹ، انٹر میڈیٹ ، ایس ایس سی، عالم، حافظ و فاضل اور عقدثانی کا علیحدہ کاؤنٹر بھی قائم کئے گئے۔ اس کے ساتھ انجینئرنگ کاؤنٹر پر لڑکوں کی تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے لاؤڈ اسپیکر اور اسکرین کے ذریعہ لڑکے کے بائیو ڈاٹا اور فوٹو بتائے گئے جس سے کئی والدین نے استفادہ حاصل کیا۔ دو بہ دو پروگرام میں تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے لگائے گئے کاؤنٹرس پر کونسلرس کو متعین کیا گیا جو والدین اور سرپرستوں کی رہبری و رہنمائی کر رہے تھے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی رکھی گئی تاکہ اس کے ذریعہ لڑکا اور لڑکی کے رشتے اپنے گھروں میں بیٹھ کر دیکھ سکیں۔ انجینئرنگ کاؤنٹر سے آج ایسے والدین نے استفادہ کیا جن کے لڑکے بیرونی ممالک میں اعلیٰ کمپنیوں میں روزگار سے منسلک ہیں ۔ اس پروگرام کو حیدرآباد و تلنگانہ کے علاوہ دیگر ریاستوں اور ممالک میں پیش کرنے فیس بُک، یو ٹیوب، اسکائپ پر راست مشاہدہ کی سہولیات مہیا کی گئی۔ جناب خالد محی الدین کوآرڈی نیٹر پروگرام، شیخ نظام الدین لئیق اور دو بہ دو پروگرام کے اسٹاف نے تعاون کیا۔ ڈاکٹر الیاس باشاہ کی دعا پر 5 بجے شام یہ پروگرام اختتام کو پہنچا۔ جناب صالح بن عبداللہ باحاذق نے پروگرام کی کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔