ڈائرکٹوریٹ آف ریونیو انٹلی جنس کی تین افراد سے پوچھ تاچھ ، سیاست دانوں کے علاوہ تجارتی گھرانوں کے افراد بھی ملوث
حیدرآباد۔19۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) لگژری گاڑیوں کی فروخت اور ٹیکس چوری معاملہ کی تحقیقات میں مزید پیشرفت کے بعد اس بات کی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ معاملہ کی تحقیقات کرنے والی ایجنسی ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹلیجنس نے مزید 3افراد سے پوچھ تاچھ کا آغاز کیا ہے جو کہ بشارت خان سے لگژری گاڑیوں کی خریدی کرنے والے گاہک ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ڈی آر آئی کے عہدیداروں کی جانب سے تمام تفصیلات اکٹھا کرنے کے بعد گاڑیوں کی تجارت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے متعلق بھی تفصیلات حاصل کی جائیں گی اور انہیں بھی پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اب تک کی تحقیقات کے دوران جو انکشافات ہوئے ہیں ان کے مطابق گاڑیوں کی تجارت ‘ فروخت اور سرمایہ کاری کے معاملہ میں نہ صرف ٹیکس چوری کا معاملہ ہے بلکہ کروڑ ہا روپئے کے نقد لین دین کے بھی معاملات ہیں ۔ عہدیداروں کے مطابق گاڑیوں کی درآمد میں ٹیکس کی چوری کے علاوہ نقد لین دین کے ذریعہ کالے دھن کے استعمال کا بھی معاملہ منظر عام پرآیا ہے ۔انتہائی قیمتی لگژری گاڑیوں کے معاملہ میں جاری تحقیقات کے دوران مالدار خاندانوں کے نوجوانوں کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے لئے دی گئی نقد رقومات کی جانب سے ایجنسی کی توجہ مبذول ہوئی ہے اور اب ایجنسیاں گاہکوں کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے والوں کے ذرائع آمدنی اور ان کی جانب سے ادا کئے جانے والے ٹیکس کے متعلق تفصیلات اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ بشارت احمد خان کے پاس سرمایہ کاری کرنے والوں میں محض سیاستداں ہی نہیں بلکہ شہر حیدرآباد کے سرکردہ تجارتی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے نوجوان بھی شامل ہیں جو کہ آمدنی کے متبادل راستوں کی تلاش میں ہوا کرتے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹلیجنس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی درآمدات اور فروخت کے انکشاف کے بعد کی گئی کاروائی کے دوران جو انکشافات ہورہے ہیں وہ باعث حیرت ہیں کیونکہ ابتداء میں یہ معاملہ 7 کروڑ کی ٹیکس چوری سے شروع ہوا تھا لیکن اب یہ 100 کروڑ کے اسکام میں تبدیل ہوچکا ہے۔3