آئندہ سال تک ملک کو ماؤسٹوں سے نجات مل جائے گی، تلاشی مہم پر مرکزی وزیر داخلہ کا سخت موقف
حیدرآباد ۔ 14۔ مئی (سیاست نیوز) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے واضح کیا کہ چھتیس گڑھ میں ماؤسٹوں کے خلاف سیکوریٹی فورسس کا آپریشن کگار جاری رہے گا۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ چھتیس گڑھ تلنگانہ کی سرحد پر ماؤسٹوں کے زیر اثر علاقوں میں آپریشن کگار کے تحت تلاشی مہم جاری رہے گی۔ حال ہی میں کر گٹلہ کے مقام پر تلاشی مہم کے دوران 31 ماؤسٹوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ امیت شاہ نے کہا کہ جنوری 2024 میں آپریشن کگار کا آغاز ہوا جو 31 مارچ 2026 تک ملک کو ماؤسٹوں سے نجات دلانے کے مقصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ ملک کو نکسلائٹس اور ماؤسٹوں سے نجات دلانے کیلئے مرکزی حکومت نے فیصلہ کن کارروائی شروع کی ہے۔ چھتیس گڑھ میں بستر اور مہاراشٹرا کے گچرولی کے علاوہ جھارکھنڈ کے ماؤسٹ زیر اثر علاقوں میں سیکوریٹی فورسس کے تقریباً ایک لاکھ جوان تلاشی مہم میں مصروف ہیں۔ سی آر پی ایف ، کوبرا ، ڈی آر جی اور ریاستی پولیس کے جوان ڈرون اور سیٹلائیٹ امیجس کی مدد سے ماؤسٹوں کا تعاقب کر رہے ہیں۔ آپریشن کگار کے تحت ابھی تک 450 ماؤسٹوں کی ہلاکت ہوئی اور 7500 نے ہتھیار ڈال دیئے۔ آپریشن سندور کے آغاز کے بعد تلاشی مہم کو روک دیا گیا تھا لیکن جنگ بندی کے بعد سیکوریٹی فورسس نے آپریشن کگار کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ چھتیس گڑھ سے بڑی تعداد میں ماؤسٹ تلنگانہ میں داخل ہونے کی اطلاعات پر ریاستی پولیس نے چوکسی اختیار کرلی اور گزشتہ دنوں بڑی تعداد میں ماؤسٹوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔1