حیدرآباد۔/23 جون، ( سیاست نیوز) قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے ماویسٹوں میں بھرتی کے کیس میں شہر میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد بشمول ہائی کورٹ کی ایک خاتون وکیل کو گرفتار کرلیا۔ این آئی اے کے مطابق جاریہ سال 3 جنوری کو آندھرا پردیش وشاکھاپٹنم کے پیدا بائیلو پولیس اسٹیشن میں ماویسٹوں میں بھرتی کے سلسلہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور کیس کی تحقیقات کو این آئی اے کے حوالے کئے جانے پر 3 جون کو دوبارہ مقدمہ درج کرکے ایجنسی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ خفیہ اطلاعات موصول ہونے پر این آئی اے نے شہر میں کارروائی میں تین افراد ڈی دیویندرا ساکن گاندھی نگر پیر زادی گوڑہ گھٹکیسر، دوباسی سوپنا ضلع رنگاریڈی اور چکا شلپا ساکن خیریت آباد جو ہائی کورٹ کی وکیل ہے کو گرفتار کرلیا۔ این آئی اے عہدیداروں نے بتایا کہ نرسنگ کی ایک طالبہ کو 2017 میں اغواء کرکے ماویسٹ پارٹی میں بھرتی کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں اس کی ماں نے وشاکھاپٹنم پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ جس میں ماویسٹوں سے وابستہ تنظیم چیتنیہ مہیلا سنگھم ( سی ایم ایس ) نے اہم رول ادا کیا تھا۔ اس کارروائی میں این آئی اے نے دستاویزات اور اہم شواہد اکٹھا کئے ہیں۔ این آئی اے ذرائع نے بتایا کہ اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور دیگر مقامات پر بھی تلاشی لی جاسکتی ہے۔ ب