مجوزہ وقف ترمیمی قانون دستور کے خلاف : عزیز پاشاہ

   

حیدرآباد 9 اگست (سیاست نیوز) سابق رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا تنظیم انصاف کے صدر سید عزیز پاشاہ نے مرکزی حکومت کے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اِسے اوقافی جائیدادوں کو تباہ کرنے کی سازش کا حصہ قرار دیا۔ عزیز پاشاہ نے موجودہ وقف قانون میں مرکز کی جانب سے 40 ترمیمات کی مخالفت کی اور کہاکہ مسلمانوں سے مشاورت کے بغیر ہی ترمیمات پیش کی گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کا یہ اقدام دستور کی دفعات 14 ، 15 اور 25 کے خلاف ہے۔ نئے قانون کے ذریعہ وقف بورڈ کے اختیارات میں کمی کردی جائے گی اور وقف ٹریبونل کو برائے نام کردیا جائے گا۔ ملک بھر میں کلکٹروں کا راج ہوگا اور اُن کے فیصلے اوقافی جائیدادوں کے بارے میں قطعی ہوں گے۔ اُنھوں نے کمیٹیوں میں غیر مسلم نمائندوں کی شمولیت کی مخالفت کی اور کہاکہ مندر کمیٹیوں اور گردوارہ پربندھک کمیٹیوں میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا جاسکتا لیکن حکومت وقف اداروں میں غیر مسلموں کو شامل کرنا چاہتی ہے۔ مہاراشٹرا، ہریانہ، جھارکھنڈ اور دہلی کے مجوزہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کیلئے یہ اقدام کیا گیا ہے۔ 1