میں بی جے پی کے دباؤ کے آگے نہیں جھکوں گی ‘ ترنمول کی بنگال صدر چندریما بھٹا چاریہ مستعفی
کولکاتہ 4 جولائی ( ایجنسیز ) ترنمول کانگریس کی مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پئے در پئے جھٹکوں کے باوجود سابق چیف منسٹر ممتابنرجی اپنے موقف پر اٹل ہیں۔ پارٹی کے درجنوں ارکان اسمبلی کی جانب سے ریتا برتا بنرجی کی قیادت میں علیحدہ گروپ بنالینے اور پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کی جانب سے دوسری پارٹی میں شامل ہوجانے کے باوجود ممتابنرجی کا سخت گیر موقف برقرار ہے اور انہوں نے مخالفین اور باغیوں کو غدار قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل نقصانات کے باوجود انہیں روکا نہیں جاسکتا ۔ انہیں روکنا ہے تو انہیں ہلاک کرنا ہی ہوگا ۔ ممتابنرجی نے باغیوں کو غدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس کا انتخابی نشان ان کے حامی گروپ کے ساتھ ہی رہے گا ۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ اس معاملے میں باغیوں کو طویل قانونی لڑائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ممتابنرجی نے کہا کہ پارٹی کا امتیازی نشان کہیں نہیںجائے گا اور کوئی انہیں روکنا چاہتا ہے تو اسے مجھے ہلاک کرنا ہوگا ۔ ترنمول کانگریس سربراہ کو آج ایک اور جھٹکا اس وقت لگا جب پارٹی کی بنگال یونٹ کی صدر چندریما بھٹا چاریہ نے بھی پارٹی سے استعفی پیش کردیا ۔ رکن اسمبلی بھٹا چاریہ نے اپنے ساتھی ارکان اسمبلی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ریتابرتا بنرجی کی قیادت والے گروپ کی تائید کا اعلان کردیا ۔ ممتابنرجی نے کہا کہ چندریما بھٹا چاریہ نے آج استعفی پیش کردیا ہے ۔ وہ اصل صورتحال سے انہیں پہلے ہی واقف کرواچکی ہیں اور یہ بتادیا تھا کہ وہ مستعفی ہوجائیں گی ۔ ان کے فرزند پہلے ہی مخالف ترنمول گروپ سے ہاتھ ملا چکے تھے ۔ ممتابنرجی نے تاہم یہ یقین ظاہر کیا کہ چندریما بھٹا چاریہ باغیوں کے کیمپ میں شامل نہیں ہونگی ۔ ممتا نے دعوی کیا کہ باغیوں نے دباؤ کی وجہ سے اپنے راستے الگ کرلئے ہیں۔ تاہم وہ بی جے پی کے آگے جھکیں گی نہیں۔ ان کی پارٹی کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی ۔