محبت ِحسینؓ ، دراصل محبت ِنبی ؐہے

   

ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامی
شہادت : ۱۰/ محرم الحرام ۶۱ ہجری
دین ِمتین کی اشاعت و بقا کیلئے نواسۂ رسول (ﷺ) جگر گوشۂ بَتول حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آج کی عظیم تاریخ (۱۰ محرم ) میں جس طرح سے شہادتِ عظمیٰ کو اختیار کئے اور راہِ خدا میں بدبخت یزیدیوں کے سامنے سرکٹانے کو پسند کئے، مگر سرجھکانے کو بالکل پسند نہیں کیا، اسی طرح ہمیں بھی چاہئے کہ مولائے ذوالجلال اﷲ سبحانہٗ وتعالیٰ کو راضی کرنے، حبیب خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی محبت حاصل کرنے اور اپنی جان کو راہِ خدامیں نچھاور کرنے کی کوشش کریں۔خوف ِخدا کیلئے محبت رسول ﷺ بے حد ضروری ہے، اور یہ بھی ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ محبت رسول ﷺ کو حاصل کرنے کیلئے پہلے عترتِ محمدی ﷺ سے محبت کرنا پڑیگا۔ عترت سے مراد اہل بیت اطہار (یعنی محمد عربی ﷺ، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہم اجمعین ہیں) سے لگاؤ اور وابستگی بہت ضروری ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺبحالت نماز سجدہ میں تھے کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) آئے اور پشت مبارک پر چڑھ گئے۔ پس آپ ﷺنے (ان کی خاطر) سجدہ طویل کردیا۔ (نماز سے فراغت کے بعد) عرض کیا گیا ’’یارسول اللہ! کیا سجدہ طویل کرنے کا حکم آگیا؟‘‘۔ فرمایا ’’نہیں، میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) میری پشت پر چڑھ گئے تھے میں نے یہ ناپسند کیا کہ جلدی کروں‘‘۔(مجمع الزوائد) 
حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اﷲعنہما حضرت سیدنا علی مرتضی اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہما کے فرزندان ارجمند اور تاجدار کائنات ﷺ کی آنکھوں کی بھی ٹھنڈک تھے۔ حضور اکرم ﷺنے اپنے قول و عمل سے بتا دیا کہ حضرت فاطمہ ؓاور حضرات حسنین رضی اللہ عنہما میرے بھی لخت جگر ہیں، یہ میری نسل سے ہیں، میری ذریت ہیں اور فرمایا ’’ہر نبی کی اولاد کا نسب اپنے باپ سے شروع ہوکر دادا پر ختم ہوتا ہے، مگر اولاد فاطمہ کا نسب بھی میں ہوں، وہ میرے بھی لخت جگر ہیں‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل، المستدرک)
اہل بیت کی محبت اور اصحاب رسول کی محبت دراصل ایک ہی محبت کا نام ہے۔ ان محبتوں کو خانوں میں تقسیم کرنا، اُمت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ ملت اسلامیہ کو دوئی کے ہر تصور کو مٹاکر اُخوت و محبت اور یگانگت کے ان سرچشموں سے اپنا ناطہ جوڑ لینا چاہئے، جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا طرہ امتیاز اور شوکت و عظمت اسلام کا مظہر تھا۔ حضور اکرم ﷺنے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا، گویا امام حسین سے نفرت حضور ﷺسے محبت کی عملاً نفی ہے اور کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
[email protected]