محصولات عائد کرنے کیخلاف کینیڈا کا امریکہ کیلئے سخت موقف

   

کینیڈا کی وزیر خزانہ کرسٹیافری لینڈ کا آنے والی ٹرمپ حکومت کو انتباہ، وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی بھی ٹیلی فونک بات چیت
ٹورنٹو : کینیڈا نے کہا ہے کہ اگر آنے والی امریکی انتظامیہ کینیڈا سے اپنی درآمدات پر محصولات نافذ کرنے کے اپنے عزم پر کار بند ہوئی تو وہ اس کا سختی سے جواب دے گا۔ یہ بات جمعہ کے روز کینیڈا کی وزیر خزانہ کرسٹیا فری لینڈ نے کہی۔ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ، وزیر خزانہ فری لینڈ اور دو دوسرے صوبائی سربراہوں نے حال میں اس بارے میں گفتگو کے لیے دو فون کالز میں بات کی کہ اگر منتخب امریکی صد رڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے امریکی درآمدات پر 25 فیصد محصول عائد کیا تو اس کا بہترین طریقہ سے کیا جواب دیا جاسکتا ہے۔ فری لینڈ نے کہا کہ اگر امریکہ کینیڈا کی درآمدات پر غیر منصفانہ محصولات عائد کرے گا تو بلا شبہ ہم جواب دیں گے اور کینیڈا کا رد عمل لازمی طور پر سخت ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ موثر ہو گا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا تھاکہ وہ بطور صدر اپنے پہلے ایگزیکٹو آرڈرز کے طور پر کینیڈا اور میکسیکو سے ملک میں داخل ہونے والی تمام مصنوعات پر 25 فی صد ٹیکس اور چین سے آنے والی مصنوعات پر 10 فی صد اضافی محصولات عائد کریں گے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک کینیڈامنشیات اورسرحد عبورکرکے آنے والے تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتا، وہ محصولات بر قرار رکھیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ محصولات اس وقت تک عائد رہیں گے جب تک ہمارے ملک پر بالخصوص فینٹینل جیسی منشیات، اور غیر قانونی تارکین وطن کی یلغار نہی رکتی۔ بلومبرگ نے جمعرا ت کو رپورٹ دی تھی کہ کینیڈا یورینیم، تیل اور پوٹاش سمیت اشیائے صرف پر برآمدی ٹیکسوں کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لے رہا ہے۔ کینیڈین حکومت کے ایک ِذریعہ نے کہا ہے کہ اگرچہ تمام جوابی متبادل میز پر ہیں، وزراء اور عہدے دار وں کو کسی فیصلے تک پہنچنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ اگرچہ فری لینڈ نے کہا ہے کہ آٹوا اور صوبوں کو ایک متحدہ محاذ پیش کرنے کی ضرورت ہو گی، تاہم کچھ صوبوں کے سربراہ مجوزہ رد عمل کے بارے میں ناخوش ہیں۔ کینیڈا کے صوبے ساسکیچوان کے پریمئیر اسکاٹ مو نے کہا ہے کہ ٹروڈو حکومت کے ِذریعہ ایکسپورٹ ٹیکس ’ ایک مکمل غداری ہوں گے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ساسکیچوان تیل ، یورینیم اور پوٹاش پیدا کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا ، امریکی محصولات کے جواب میں ان اشیا پر ایکسپورٹ ٹیکس ہماری معیشت کے لیے اور ہماری ملازمتوں کے لیے نقصان میں محض اضافہ کا باعث بنیں گے۔ البرٹا کی پریمئیر ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ ان کا تیل پیدا کرنے والا صوبہ نہ تو امریکہ کے لیے البرٹا کی انرجی ایکسپورٹس منقطع کرنے کی حمایت کرے گا اور نہ ہی ہم اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر اور قریب ترین اتحادی کے ساتھ محصولات پر کسی جنگ کی حمایت کرے گا۔