محکمہ اقلیتی بہبود میں بی شفیع اللہ کی بارہ سال خدمات کی جامع تحقیقات ناگزیر

   

اردو اکیڈیمی اور وقف کی لاکھوں کروڑ مالیاتی اراضیات کو تباہ کرنے میں اہم کردار
حیدرآباد۔29 جولائی(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں بی شفیع اللہ کی خدمات کے 12 سال کی جامع تحقیقات ناگزیر ہے کیونکہ اپنے متعلقہ محکمہ جنگلات سے 12 سال دور رہتے ہوئے مسلسل کوششوں اور کاوشوں کے ذریعہ محکمہ اقلیتی بہبود میں برقراری اب شبہات سے بالاتر نہیں رہی کیونکہ 5220 مربع گز اردو اکیڈیمی کی ہی جائیداد کو لیز پر دیئے جانے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کے سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود رہتے ہوئے تلنگانہ وقف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہوئے ’’وقف بورڈ‘‘ کی لاکھوں کروڑ روپئے مالیاتی اراضیات کو تباہ کرنے کی راہ ہموار کی گئی تھی جن میں درگاہ حضرت مخدوم بیابانی ؒ آلور ضلع رنگاریڈی ‘ جامعہ نظامیہ کے تحت موجود 510 ایکڑ رائے درگ کی اراضی کے علاوہ دیگر اراضیات شامل ہیں ۔بی شفیع اللہ آئی ایف ایس جو کہ سال 2015 میں پہلی مرتبہ محکمہ اقلیتی بہبود میں نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی حیثیت سے تقرر حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور اس کے بعد سال 2016 میں انہیں ’’ٹمریز‘‘ کے قیام کے بعد سیکریٹری ٹمریز کے عہدہ کی ذمہ داری دی گئی تھی اور اس کے بعد مختصر وقفہ کے لئے وہ اس ذمہ داری سے محروم رہے لیکن اب وہ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود رہتے ہوئے بھی ’سیکریٹری‘ ٹمریز کے عہدہ کی زائد ذمہ داری اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ 2016 سے 2024 جنوری تک وہ مسلسل سیکریٹری ٹمریز کے عہدہ پر رہے اور تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی انہیں اس عہدہ سے ہٹادیا گیا تھا لیکن اندرون چندماہ وہ دوبارہ ’’سیکریٹری‘‘ ٹمریز کے عہدہ پر واپس ہوگئے ۔محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کے شدید متاثر ہونے کی مسلسل شکایات کے باوجود انہیں بعض بدعنوان سیاستداں جو محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود انتہائی قیمتی اثاثہ جات و اراضیات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں ان کی مدد حاصل ہونے کے سبب وہ اب تک بھی سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدہ پر برقرار رہنے میں کامیاب ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق بی شفیع اللہ اپنے محکمہ جنگلات سے دور رہنے کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔بی شفیع اللہ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے وہ واحد عہدیدار ہیں جنہو ںنے محکمہ اقلیتی بہبود کے سیکریٹری کا عہدہ سنبھالنے سے قبل محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے بیشتر تمام ادارۂ جات کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں بلکہ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود رہتے ہوئے بھی وہ سیکریٹری’ٹمریز‘ کے علاوہ نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹرتلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن‘ نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر کرسچن کارپوریشن کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔سابق میں وہ سوائے چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کے بیشتر ادارہ ٔ جات کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں جن میں ڈائریکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی ‘ اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی کی ذمہ داری بھی شامل ہیں۔بی شفیع اللہ آئی ایف ایس پر ان کے اپنے شخصی مددگار کو غیر مجاز تقرر فراہم کرنے اور ’مددگار‘ کے باپ اور بھائی کے نام پر محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف ادارۂ جات سے ’’گتہ‘‘ دلوانے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔مذکورہ ’’گتہ دار‘‘ کے ذریعہ ادارہ جات میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں‘ عملہ اور ملازمین کو ہراساں کرنے کی بھی الزام عائد ہوتے رہے ہیں۔تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی 100 کروڑ روپئے مالیتی اراضی کو BOTکے اساس پر دیئے جانے کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے کاروائی کے اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے لیکن تاحال سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود بی شفیع اللہ نے جی او ایم ایس 20 جو کہ 16جولائی کو جاری کیا گیا تھا چیف سیکریٹری کی ہدایت کے باوجود تنسیخ کے احکامات جاری کرنے کے بجائے مذکورہ جی او کو ’’زیرالتواء ‘‘ رکھا ہے حالانکہ چیف سیکریٹری مسٹر سنجے جاجو نے اس جی او کی تنسیخ کی واضح ہدایت دی ہے۔محکمہ اقلیتی بہبود کے سیکریٹری کے عہدہ پررہتے ہوئے تلنگانہ وقف بورڈ کی اراضیات کو کرایہ یا لیز پر دینے کے لئے دباؤ ڈالے جانے کی بھی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں اور مامڑپلی میں موجود کئی اراضیات کو 30 سال کے لئے لیز پر حاصل کرنے کی کوششیں بھی کئی گئیں جس میں تاحال محکمہ اقلیتی بہبود ناکام رہا لیکن ’ٹمریز‘ کے لئے 56ایکڑ اراضی حاصل کرنے کے باوجود مزید 5 ایکڑ اراضی وقف بورڈ کے ذریعہ حاصل کرنے کے لئے تلنگانہ وقف بورڈ پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ معاملہ اب تک محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اداروں میں ’’گتہ داری ‘‘ میں سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کے دفتر کے ملوث ہونے کا تھا لیکن اب یہ محکمہ اقلیتی بہبود کے اثاثہ جات کو نقصان پہنچانے تک پہنچ چکا ہے اسی لئے مختلف گوشوں سے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔3/m/b