مدھیہ پردیش اجتماعی عصمت ریزی۔ بی جے پی نے پارٹی لیڈر کے بیٹے کا نام آنے پر کاروائی کایقین دلایا۔

,

   

انہوں نے کہاکہ واقعہ کے بعد متاثرہ او راس کی چھوٹی بہن گھر واپس لوٹے جہاں پر انہوں نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔
داتیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی دتیا ضلع یونٹ کے سربراہ نے اتوار کے روز کہاکہ اگر اجتماعی عصمت ریزی کی شکار19سالہ لڑکی نے اپنے پولیس بیان میں ایک مقامی کارکن کے بیٹے کو جرم میں ملوث قراردیا تو مناسب کاروائی کی جائے گی۔

پولیس نے بتایاکہ مدھیہ پردیش کے دتیاکی سہ پہر خاتون کو مبینہ طور پر چار افراد نے اغوا کیااور اس کی عصمت ریزی کی‘ جس کے بعد متاثرہ نے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اوناؤ کے پولیس اسٹیشن انچارج یوگیندر سنگھ گجر نے اتوار کے روز کہاکہ پولیس نے اب تک ایک ملزم کو گرفتار کیا اور دو نابالغوں کو تحویل میں لیا وہیں اس کیس میں ایک اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ مفرور ملزم پر 10,000روپئے کے انعام کا اعلان بھی کیاگیاہے۔اب تک پکڑے گئے لوگوں میں بی جے پی کے ایک مقامی کارکن کا نابالغ لڑکا بھی شامل ہے‘ جس کا نام اس معاملے میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف ائی آر) میں آیاہے۔

اس بارے میں پوچھے جانے پر‘ بی جے پی کے صدر سریندر بڈھوایا نے کہاکہ یہ واقعہ افسوسناک ہے اور پولیس نے ابھی تک متاثرہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیاہے۔

بڈھولیا نے کہاکہ اگر متاثرہ بی جے پی کارکن کے بیٹے کا نام پولیس کو اپنے بیان میں دیتے ہیں تو پھر پارٹی کی مقامی یونٹ نوٹس جاری کریگی۔ مذکورہ پارٹی پھر مزیدکاروائی کریگی۔واقعہ کے بعد متاثرہ کی چھوٹی بہن نے پولیس میں ایک شکایت درج کرائی ہے۔

سپریڈنٹ آف پولیس پردیب شرما نے ہفتہ کے روز کہاکہ ”شکایت کردہ نے کہاکہ وہ اور اس کی بہن کو چار افراد کو اغوا کرلیاگیاتھا۔ ملزمین نے انہیں ایک گھر میں لے گئے‘ جہاں پر انہوں نے اس کی بڑی بہن کی عصمت ریزی کی ہے“۔

انہوں نے کہاکہ واقعہ کے بعد متاثرہ او راس کی چھوٹی بہن گھر واپس لوٹے جہاں پر انہوں نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔شرما نے کہاکہ بعدازاں پڑوس کے اترپردیش کے جھانسی کے ایک اسپتال میں متاثرہ کو داخل کیاگیا۔

انہوں نے کہاکہ ایف ائی آر کے مطابق مذکورہ ملزمین نے شکایت کردہ کے ساتھ بھی بدسلوکی کی ہے۔ واقعہ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ پولیس اسٹیشن پہنچ کر احتجاج کیا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیاہے۔

انہوں نے کہاکہ لوگوں کو پرسکون کیاگیااور ایف ائی آر کی ایک کاپی بھی انہیں دی گئی۔ملزمین کے خلاف ائی پی سی کی دفعات 376ڈی‘354اور 342کے علاوہ پی او سی ایس او ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیاگیاہے۔