اگرہ : علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان لڑکو ں کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ پولیس نے مبینہ طور پر ان کے مذہب اسلام قبول کرنے کی بات کے ویڈیو کے وائرل ہوجانے پر اُن کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری انجام دی جس کے تحت ان پر دو فرقوں کے درمیان منافرت پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ مزید تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ دونوں نوجوان نابالغ اور ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر ان کے ارکان خاندان حیران رہ گئے ۔ دونوں ہی 12ویں کلاس کے طلبہ ہیں اور اسلام کے تعلق سے دوستانہ انداز میں بات چیت کررہے تھے ۔ اس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے خلاف سیکشن 505 کے تحت کارروائی کی گئی ۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی بی جے پی قائد نے پولیس سے رابطہ قائم کیا اور اپنی شکایت میں بی جے پی قائد رام گوپال نے کہا کہ انہوں نے جو ویڈیو دیکھا ہے اس میں ایک نوجوان لڑکا ہندوؤں کو دھمکیاں دے رہا تھا اور انہیں مذہب اسلام قبول کرنے کی بات کہہ رہا تھا ۔ اس موقع پر دونوں لڑکو ں کے ارکان خاندان نے اس واقعہ کے جنگل کی آگ کی طرح پھیل جانے پر شدید حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں دوست ہیں اور اپنی کوچنگ کلاسیس سے واپسی کے وقت یوں ہی تبادلہ خیال کررہے تھے ۔