مرکزی اداروں سے قانون حق آگہی کے تحت غیر اطمینان بخش جواب

   

مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے ٹالنے کی کوشش
حیدرآباد۔11جنوری(سیاست نیوز) ریاست ہی نہیں بلکہ مرکزی اداروں کی جانب سے بھی قانون حق آگہی کے تحت طلب کی جانے والی تفصیلات کی اجرائی میں کی جانے والی کوتاہی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی و مرکزی اداروں کے عہدیداروں کو قانون حق آگہی 2005 کے تحت تفصیلات کی فراہمی سے زیادہ تفصیلات فراہم نہ کرنے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے کیونکہ درخواستوں کے ادخال پر جس انداز کے جواب دیئے جار ہے ہیں ان کے موصول ہونے کے بعد اپیل لازمی ہونے لگی ہے۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو روانہ کی گئی ایک درخواست حق آگہی میں کئے گئے سوالات کے جواب دینے کے بجائے یونیورسٹی کے پبلک انفارمیشن آفیسر نے ان سوالوں کو ٹالنے کے لئے قانون حق آگہی کے دفعات کا سہارا لیتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ طلب کی گئی تفصیلات شخصی معلومات کے زمرہ میں آتی ہیں اسی لئے ان کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا ۔یوگانتر نامی تنظیم کے آر ٹی آئی جہدکار جناب کریم انصاری نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں نومبر2022 تک کنٹراکٹ کے اساس پر کتنے لوگوں کو ملازمت فراہم کی گئی ہے اور کن لوگوں کوکس عہدہ پر ملازمت دی گئی ہے اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ نام‘ عہدہ اور تقرر کی تاریخ طلب کی گئی تھی جس پر یونیورسٹی کی جانب سے محض یہ کہا گیا ہے کہ اب تک یونیورسٹی میں 260 افراد کو غیر تدریسی عملہ کو تقررات فراہم کئے گئے ہیں جبکہ ان کے نام اور عہدوں کی تفصیل کے متعلق یہ کہتے ہوئے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا گیا ہے کہ قانون حق آگہی کے دفعہ 8 (1) J کے تحت یہ شخصی معلومات ہیں جو کہ فراہم نہیں کی جاسکتیں۔اسی طرح جن لوگوں کی معیاد میں توسیع کی گئی ہے اس کی تفصیلات کے جواب میں کہاگیا ہے کہ قانون حق معلومات کی دفعہ 2(1)کے تحت یہ معلومات فراہم آرٹی آئی کے دائرہ کار میں طلب نہیں کی جاسکتی حالانکہ معیاد میں توسیع عام معلومات کا حصہ ہیں۔ کنٹراکٹ کی بنیاد پر کئے گئے 260 تقررات میں ایس سی اور ایس ٹی طبقہ کے ملازمین کی تعداد اور ان کی تفصیلات کو بھی دفعہ 8(1)کے تحت فراہم کرنے سے انکار کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کے ریکارڈس جو برسرخدمت ہیں وہ کوئی شخصی معلومات نہیں ہیں ۔ جناب کریم انصاری نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی سے موصول ہونے والے اس جواب کے خلاف آئندہ دو یوم کے دوران اپیل دائر کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کریں گے۔م