سی بی آئی کی تازہ کارروائیوں پر نظر، وزراء اور عوامی نمائندے خوف کے ماحول میں، اطمینان دلانے کیلئے چیف منسٹر کا شخصی رابطہ
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں میں متواتر اضافہ نے ٹی آر ایس حکومت کو جوابی حکمت عملی کی تیاری پر مجبور کردیا ہے۔ ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کی جانب سے حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس وزراء اور عوامی نمائندوں کیخلاف کارروائیوں کا معاملہ پرگتی بھون میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ سی بی آئی کی جانب سے کریم نگر میں ریاستی وزیر سیول سپلائیز جی کملاکر کی قیامگاہ پر آج صبح دھاوے کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اگرچہ گذشتہ چند ہفتوں سے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں سے نمٹنے کیلئے ایکشن پلان کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن وزیر لیبر ملاریڈی کیخلاف انکم ٹیکس کارروائیاں اور پھر آج سی بی آئی کی تازہ تلاشی نے ایک طرف حکومت کو اُلجھن میں مبتلاء کردیا ہے تو دوسری طرف وزراء اور عوامی نمائندوں میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی کارروائیوں پر تلنگانہ میں روک لگانے کیلئے حکومت کے فیصلہ کے باوجود سی بی آئی نے تحقیقات کے نام پر وزیر سیول سپلائی جی کملاکر کی قیامگاہ پر تلاشی مہم انجام دی۔ کملاکر اور رکن راجیہ سبھا روی چندر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ ان دونوں قائدین کو دہلی میں ایک فرضی سی بی آئی عہدیدار کی گرفتاری معاملہ میں طلب کیا گیا۔ حال ہی میں مائننگ اسکام کے سلسلہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے وزیر سیول سپلائیز کی قیامگاہ و دفاتر پر دھاوے کئے تھے۔ لکر اسکام کے سلسلہ میں اگرچہ حکومت کے بعض اہم قائدین کے نام میڈیا میں آچکے ہیں لیکن سی بی آئی نے ابھی تک کسی کو نشانہ نہیں بنایا۔ برسراقتدار پارٹی کے قائدین کو اندیشہ ہے کہ سی بی آئی آنے والے دنوں میں لکر اسکام کی جانچ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس کے بعض قائدین کو نوٹس جاری کرسکتی ہے۔ حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے نئی دہلی میں اپنے نمائندوں کو متحرک کردیا ہے۔ مرکزی حکومت سے ٹکراؤ کی صورتحال کے دوران تلنگانہ میں قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں کو سیاسی انتقامی کارروائیوں کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جوابی حکمت عملی کے تحت بی جے پی سے قربت رکھنے والے صنعت کاروں کو ریاستی اداروں کی جانب سے نوٹس دی جاسکتی ہے لیکن ریاستی اداروں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ لہذا چیف منسٹر جوابی کارروائیوں کے ذریعہ کشیدگی کو مزید بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ کئی وزراء اور عوامی نمائندے جن کی بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ہیں وہ مرکزی اداروں سے خوفزدہ ہیں۔ لکر اسکام کے معاملہ میں چیف منسٹر سے قربت رکھنے والے رکن راجیہ سبھا کو نوٹس کی اجرائی کی اطلاع کے ساتھ ہی مذکورہ قائد نے خود کو عوامی سرگرمیوں سے علحدہ کرلیا ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت پرگتی بھون میں گذاررہے ہیںاور اپنا موبائیل فون بھی بند کرلیا ہے ۔ چیف منسٹر ایسے وزراء اور عوامی نمائندوں سے ٹیلی فون پر ربط قائم کرتے ہوئے انہیں بھروسہ دلارہے ہیں کہ حکومت ان کے ساتھ رہے گی۔ مرکز اور ریاست کے درمیان کشیدہ صورتحال آنے والے دنوں میں مزید سنگین رُخ اختیار کرسکتی ہے، لہذا ٹی آر ایس کے بعض قائدین چیف منسٹر کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مرکزی حکومت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ قومی اداروں کی کارروائیوں کے نتیجہ میں چیف منسٹر کی توجہ قومی سطح پر ٹی آر ایس کی سرگرمیوں کو وسعت دینے سے منقسم ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس کے اعلان کے وقت کہا تھا کہ 8 ڈسمبر کو نئی دہلی میں بڑے جلسہ عام میں قومی پارٹی کا اعلان کیا جائے گا لیکن اس کی کوئی تیاریاں دکھائی نہیں دیتیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر کو دیگر ریاستوں میں مخالف بی جے پی مہم سے روکنے کیلئے قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ر