مرکزی حکومت سے شہریوں پر مہنگائی کا جھٹکہ

   

قرض کی شرح میں اضافہ ، ایس بی آئی سے قرض پر اضافی شرح سود وصولی کا آغاز
حیدرآباد۔15 ۔ اکٹوبر (سیاست نیوز) دسہرہ تہوار کی تیاریوں کے دوران حکومت ہند نے ہندستانی شہریوں کو مہنگائی کا جھٹکہ دیتے ہوئے قرض کی شرحوں میں اضافہ کی راہ ہموار کرنی شروع کردی ہے جو کہ مہنگائی میں اضافہ کا سبب بنے گی۔ملک میں معاشی انحطاط و بحران کے نتیجہ میں مہنگائی میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے خدشات اب درست ثابت ہونے لگے ہیں اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذریعہ قرض حاصل کرنے والوں کی ماہانہ اقساط میں اب اضافہ کئے جانے کی توثیق ہوچکی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنے قرض کی شرحوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کردیا ہے اور آج سے ہی ان نئی شرحوں کا اطلاق ہوگا جو کے صارفین بالخصوص ’ہوم لون‘ حاصل کرنے والوں کے لئے بڑا جھٹکہ ہے۔بینک نے اپنے صارفین کو سہولت کی فراہمی کے لئے بعض مدت کے قرضہ جات کے لئے شرحوں میں تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ بیشتر قرضہ جات کی شرحوں میں اضافہ کرتے ہوئے جاریہ ماہ کے دوران ہی ان سے اضافی رقومات بطور اقساط وصول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔نئی شرحوں کے مطابق بینک نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق 3ماہ تا 3سال کی درمیان و الی مدت کے قرضہ جات میں 0.15 فیصد کا اضافہ کیاگیا ہے جو کہ صارفین پر راست اثرات انداز ہوگا۔تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے 3ماہ کے قرض کی سود کی شرح 8.25 سے بڑھا کر اسے 8.40 کردی ہے جبکہ 6ماہ کے قرض کی شرح جو 8.60 فیصد تھی اسے بڑھا کر 8.75 فیصد کردیا ہے۔ اسی طرح 1سال کی مدت کے لئے حاصل کئے جانے والے قرض کی شرح جو کہ 8.70 فیصد تھی اسے بڑھا کر 8.85 فیصد کردیاگیا ہے۔ 2سال کی مدت کے لئے جاری کئے جانے والے قرض پر اب تک 8.75 فیصد شرح سود وصول کی جاتی تھی لیکن اس نئے اضافہ کے بعد یہ شرح بڑھ کر 8.90 فیصدہوچکی ہے۔ 3 سال کے لئے حاصل کئے جانے والے قرض پر 8.80 فیصد شرح سود وصول کیا جاتا تھا لیکن اب اس میں اضافہ کے بعد یہ شرح 8.95 تک پہنچ چکی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے اس فیصلہ کے بعد اسی طرز کے اقدامات دیگر بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے شروع کردیئے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں ’’ہوم لون‘‘ ادا کرنے والوں کی اقساط کی رقم میں اضافہ کے علاوہ قرض کی مدت میں بھی اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے لیکن اس فیصلہ کا اثر تمام بینک صارفین پر یکساں مرتب نہیں ہوگا۔صارفین کو اپنے بجٹ کی منصوبہ بندی کے لئے اپنے جاریہ قرضہ جات پر عائد کئے جانے والے شرح سود اور قرض کی مدت کے متعلق بینک عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کرلیں تاکہ انہیں مستقبل میں کسی بھی طرح کی معاشی یا مالیاتی منصوبہ بندی میں مشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے۔3/m/b