دو لاکھ افراد کی شرکت متوقع ، دسہرہ تک نامزد عہدوں پر تقررات: مہیش کمار گوڑ
حیدرآباد۔14 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے دسہرہ فیسٹول کے بعد دونوں جنوبی ریاستوں میں ووٹ چوری کے خلاف عام جلسوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ دو لاکھ سے زائد افراد کے ساتھ حیدرآباد میں دسہرہ کے بعد کانگریس پارٹی جلسہ عام منعقد کرے گی۔ راہول گاندھی اور کے سی وینو گوپال نے جلسہ عام کے انعقاد کیلئے تلنگانہ قائدین سے بات چیت کی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے اس بات کا انکشاف کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کے خلاف مہم کو ملک گیر سطح پر توسیع دی جائے گی۔ گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مانگ کرتے ہوئے حیدرآباد میں جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی تاریخ اور مقام کا اعلان ہوگا۔ انہوں نے راہول گاندھی پر خاتون صحافی کی توہین کے الزام کو مسترد کردیا اور کہا کہ راہول گاندھی کی بڑھتی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بی جے پی نے الزام تراشی شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں راہول گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے تاریخی احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا۔ نئی دہلی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج تھا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی نے ووٹ چوری کے بارے میں کئی ثبوت عوام کے درمیان پیش کئے ہیں۔ جنتر منتر کو احتجاجی مرکز کی فہرست سے خارج کرنے پر تنقید کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی جے پی حکومت عوامی احتجاج سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی اور انڈیا اتحاد دونوں علحدہ طور پر جدوجہد کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں گزشتہ 15 برسوں سے آر ٹی سی یونین کے انتخابات نہیں ہوئے تھے اور کانگریس حکومت نے الیکشن کا اہتمام کیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ چاہے کوئی یونین کامیابی حاصل کرے ، حکومت اپنے وعدوں پر قائم رہے گی۔ تلنگانہ کی گریجویٹ زمرہ کی دونوں نشستوں کی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے 23 اکتوبر کو چیف منسٹر کی سطح پر اجلاس منعقد ہوگا جس میں وزراء اور عوامی نمائندے شرکت کریں گے۔ ایراولی میں 45 ایکر سرکاری اراضی پر کے سی آر کی جانب سے قبضہ کی جانچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کو کانگریس پر تنقید سے پہلے کویتا کے الزامات کا جواب دینا چاہئے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2029 میں مرکز اور تلنگانہ دونوں میں کانگریس برسر اقتدار آئے گی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ دسہرہ تہوار تک نامزد عہدوں پر تقررات کا امکان ہے۔ پارٹی کیلئے جدوجہد کرنے والے قائدین اور کارکنوں کو نامزد عہدوں پر تقررات میں تاخیر ہوئی ہے۔1/k/m/b