ہندی کو لازمی قرار دینے امیت شاہ کے ریمارکس پر ریاستی وزیر کا کرارہ جواب۔ کھانا ‘ پینا اور بولنا عوام کا اختیار
حیدرآباد ۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کیا پہنیں، کیا کھائیں، کونسی زبان بولیں اور کس کی عبادت کریں یہ عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ ان کا اپنا اختیار ہے۔ مرکزی حکومت زبردستی عوام پر اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش نہ کرے۔ کے ٹی آر ایک ہفتہ دس دن سے مرکزی حکومت اور اس کی پالیسیوں کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔ تازہ طور پر انہوں نے ٹوئیٹر پر مرکزی وزیرداخلہ کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ امیت شاہ نے ملک کے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ بات چیت کرتے وقت انگریزی اور مقامی زبانوں کے علاوہ لازمی طور پر ہندی میں بھی بات چیت کریں جس پر کے ٹی آر نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک بہت بڑا خاندان ہے۔ تنوع میں اتحاد ہماری بہت بڑی طاقت ہے۔ ہمارے ملک کے عوام پر یہ چھوڑ دیا جانا چاہئے کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کھائیں، جس طرح چاہے لباس پہنیں، جس زبان میں چاہے بات چیت کریں اور اپنی مرضی کے مطابق عبادت کریں۔ کسی پر بھی زور زبردستی کرنا یا اپنی مرضی تھوپ دینا غیرمناسب ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پہلے وہ ہندوستانی ہے اس کے بعد فخر سے کہتے ہیں کہ تلگو اور تلنگانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں اپنی مادری زبان تلگو میں ہی بات کرتا ہوں اس کے باوجود انگریزی، ہندی کے ساتھ تھوڑی اردو میں بھی بات کرسکتے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ملک میں صرف ہندی میں بات کرنا اور انگریزی زبان پر پابندی عائد کرنے کے تجاویز سے نوجوانوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ن