حیدرآباد ۔ 7 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مرکزی حکومت نے بچے کی پیدائش پر غریب خواتین کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (PMMVY) کا آغاز کیا ہے ۔ اگرچہ کے یہ اسکیم ماؤں کی غذائی ضروریات کے لیے کچھ مالی امداد فراہم کرنے کے ارادے سے شروع کی گئی ہے ۔ لیکن تلنگانہ کی غریب ماؤں کو اس سے فائدہ نہیں ہورہا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت ریاستی حکومت کو موصول ہوئے 65 کروڑ روپئے تقریبا 8 سال سے ’ ایسکرو اکاونٹ ‘ میں پڑے ہوئے ہیں ۔ پہلی ڈیلیوری کو کچھ مالی امداد دینے کے مقصد مرکزی وزارت خواتین و اطفال بہبود نے 2017 میں اس اسکیم کا آغاز کیا تھا ۔ سال 2022 کے دوران اس میں چند ترمیمات کیے گئے ۔ زیادہ سے زیادہ خواتین کو فائدہ پہونچانے اور لڑکیوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کرنے دوسری ڈیلیوری میں لڑکی کی پیدائش پر 6 ہزار روپئے مالی فراہم کرنے کے لیے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ۔ اس اسکیم کے آغاز کے موقع پر ریاست کو 65 کروڑ روپئے وصول ہوئے تاہم اس وقت کی بی آر ایس حکومت نے اس میں ایک روپئے کا بھی استعمال نہیں کیا ۔ سابق حکومت سرکاری ہاسپٹلس میں ڈیلیوری کرانے والی خواتین کے لیے کے سی آر کٹ کے ساتھ نیوٹریشن کٹ کا آغاز کیا تھا۔ جس کی وجہ سے مرکزی حکومت کے میاچنگ گرانٹس سے استفادہ نہیں کیا ۔ کانگریس حکومت تشکیل پانے کے بعد کے سی آر کٹ کی ماں اور بچہ کے لیے ایم سی ایچ کٹس فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں زچہ اور بچہ کے استعمال میں آنے والی اشیاء کے ساتھ غذائی اشیاء کو بطور نیوٹریشن فراہم کرنے پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔ تاہم یہ اسکیم ابھی شروع نہیں ہوئی ہے جس پر فوری عمل کرنے پر پی ایم ایم وی وائی اسکیم کے تحت وصول ہوئے 65 کروڑ روپئے بھی استعمال کرنے کی سہولت ہوگی ۔ ریاست میں سالانہ تقریبا 5 لاکھ ڈیلیوریز ہوتی ہیں ۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں نصف ڈیلیوریز سرکاری ہاسپٹلس میں ہورہے ہیں ۔ اگر PMMVY لاگو ہوتا ہے تو ماؤں کو پانچ ہزار روپئے دو مرتبہ حاصل ہوں گے ۔ دوسری ڈیلیوری میں لڑکی کی پیدائش پر 6 ہزار روپئے حاصل ہوں گے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ فنڈز استعمال نہ کرنے پر مرکزی محکمہ خواتین و اطفال بہبود نے واپس لوٹا دینے کی ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے جس پر ریاستی حکومت متحرک ہوگئی ۔ ایم سی ایچ کٹس فوری تقسیم کرنے اور مرکز کے 65 کروڑ روپئے استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے ۔۔ 2