کانگریس نے دستاویزی ثبوت جاری کیا،اڈانی کو نظر انداز کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت پر مہربانی، مدھو یاشکی گوڑ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/30اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے بی جے پی میں شمولیت کیلئے کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کو مرکزی حکومت کی جانب سے جھار کھنڈ میں کانکنی کا بڑا کنٹراکٹ حوالے کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے اس سلسلہ میں دستاویزی ثبوت جاری کیا۔ مرکزی حکومت نے جھارکھنڈ کے چندراگپت اوپن کاسٹ کول مائننگ پراجکٹ کو کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کی کمپنی سوشی انفرا اینڈ مائننگ کو الاٹ کیا جبکہ اس کنٹراکٹ کے اہم دعویداروں میں کئی اہم نام بشمول اڈانی انٹر پرائزز موجود تھے۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور کانگریس کی تشہیری کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ نے دستاویزی ثبوت جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کانگریس سے انحراف اور بی جے پی میں شمولیت کے تحفہ کے طور پر مرکز نے اڈانی کو نظرانداز کرتے ہوئے کوئلہ کی کانکنی کا اہم پراجکٹ راجگوپال ریڈی کو الاٹ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں کئی بولی دہندگان بشمول اڈانی کو نظرانداز کردیا گیا اور ٹنڈرس دوبارہ طلب کرتے ہوئے اہم کنٹراکٹ سوشی انفرا کے حوالے کیا گیا جو مبینہ طور پر خسارہ میں چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانکنی کے شعبہ میں کمپنی کو تجربہ کی کمی کے باوجود اہم پراجکٹ راجگوپال ریڈی کو منظور کیا گیا۔ مدھو یاشکی گوڑ کے مطابق پراجکٹ کی جملہ مالیت 3433 کروڑ ہے جبکہ یقینی آمدنی 18264 کروڑ ہے۔ اس پراجکٹ کے نتیجہ میں راجگوپال ریڈی کے ادارہ کو 520 کروڑ کا منافع ہوگا۔ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے موقع پر محبوب نگر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ سوشی انفرا کمپنی میں راجگوپال ریڈی کی اہلیہ و ارکان خاندان کے 99 فیصد شیئر ہیں اور مرکز نے کئی قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے کنٹراکٹ حوالے کیا ہے۔ چندرا گپت اوپن کاسٹ پراجکٹ اڈانی کو حوالے کیا جانے والا تھا لیکن اچانک نیا ٹنڈر طلب کیا گیا اور راجگوپال ریڈی کے بی جے پی کی طرف جھکاؤ کے بعد دوبارہ ٹنڈر طلب کرتے ہوئے کنٹراکٹ حوالے کیا گیا۔ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ اگرچہ سوشی انفرا کمپنی خسارہ سے دوچار ہے باوجود اس کے قومی اور ریاستی بی جے پی قائدین کے تعاون سے پراجکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈسمبر 2021 میں کمپنی کو پراجکٹ کی منظوری کا مکتوب حوالے کیا گیا۔ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ مارچ 2021 میں راجگوپال ریڈی نے کہا تھا کہ بی جے پی قائدین ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ کے بارے میں ان سے مشاورت کررہے ہیں۔ جون 2021 میں بی جے پی کی قومی نائب صدر ڈی کے ارونا نے راجگوپال ریڈی سے 4 گھنٹوں تک بات چیت کی۔ ڈسمبر 2021 میں مرکز نے پراجکٹ کی منظوری کا مکتوب روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی منظوری میں تاخیر پر راجگوپال ریڈی نے بی جے پی میں عدم شمولیت کی دھمکی دی جس پر مارچ 2022 میں قطعی معاہدہ کیا گیا۔ معاہدہ کے بعد بی جے پی قائدین اور راجگوپال ریڈی نے کانگریس سے انحراف کے منصوبہ پر عمل آوری شروع کی۔ مارچ 2022 میں راجگوپال ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے کئی غلطیاں کی جارہی ہیں اور وہ دوسری پارٹی میں شامل ہوتے ہوئے کے سی آر کے خلاف مقابلہ کریں گے۔ مئی 2022 میں وہ ورنگل میں راہول گاندھی کے جلسہ عام سے غیر حاضر رہے۔ 23 جولائی کو انہوں نے امیت شاہ سے ملاقات کی اور اسی دن انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں سونیا گاندھی سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ 27 جولائی کو بنڈی سنجے نے راجگوپال ریڈی کی بی جے پی میں شمولیت کی توثیق کی۔ر