کے ٹی آر اور سامبا سیوا راؤ کا ردعمل، پولیس کی جانب سے عوامی احتجاج کی اجازت نہ دینے کی شکایت، اسمبلی میں بل پر مباحث
حیدرآباد 2 اگست (سیاست نیوز) بی آر ایس اور بی جے پی نے مرکزی حکومت کے فوجداری قوانین پر تلنگانہ حکومت سے موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ اسمبلی میں تلنگانہ سیول کورٹس ترمیمی بل 2024 ء پر مباحث کے دوران بی آر ایس کے کے ٹی راما راؤ نے کہاکہ ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ قتل و غارت گری کے علاوہ حالیہ دنوں میں سائبر کرائم اور عصمت ریزی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام میں عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرنے کے لئے حکومت کو جرائم پر قابو پانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ کے ٹی آر نے عصمت ریزی کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کے لئے ہر ضلع میں خصوصی فاسٹ ٹریک کورٹ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ مرکزی حکومت کے نئے فوجداری قوانین کو عوامی حقوق سلب کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ نئے قانون کے نفاذ کی صورت میں پولیس راج قائم ہوگا اور عوام جمہوری انداز میں اپنے مسائل کیلئے آواز نہیں اُٹھا پائیں گے۔ کے ٹی آر نے کہاکہ کرناٹک، ٹاملناڈو اور مغربی بنگال نے مرکزی قوانین میں ضروری ترمیمات کرتے ہوئے اپنی ریاستوں میں نافذ کیا ہے تاکہ عوام کو اپنے مسائل پیش کرنے کی آزادی برقرار رہے۔ اُنھوں نے تلنگانہ حکومت سے مرکزی قوانین پر موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی کے سامبا سیوا راؤ نے کہاکہ مرکزی حکومت کے نئے قوانین سیول سوسائٹی کے خلاف ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنے مسائل پر آواز نہیں اُٹھا پائے گا اور نئے قوانین کے تحت پولیس کو غیرمعمولی اختیارات دیئے گئے ہیں، جس سے پولیس مظالم میں اضافہ ہوگا۔ کے ٹی آر اور سامبا سیوا راؤ نے ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی بل کی تائید کی۔ کے ٹی آر اور سامبا سیوا راؤ نے شکایت کی کہ پولیس کی جانب سے دھرنا چوک پر احتجاج کی اجازت سے انکار کیا جارہا ہے۔ سندریا وگنان کیندر میں سیول سوسائٹی کو جلسہ کے انعقاد کے لئے اجازت حاصل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ سامبا سیوا راؤ نے کہاکہ حکومت کی مرضی کے بغیر پولیس عہدیدار اپنے طور پر اجازت سے انکار کررہے ہیں۔ سی پی آئی رکن نے ریمارک کیاکہ کہیں کانگریس حکومت بھی بی آر ایس کے نقش قدم پر گامزن ہے؟ اُنھوں نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ پولیس کی کارروائیوں پر نظر رکھیں تاکہ حکومت کی نیک نامی متاثر نہ ہو۔ کے ٹی آر نے اگریکلچر یونیورسٹی کی اراضی ہائیکورٹ کی نئی عمارت کے لئے الاٹ کرنے پر یونیورسٹی طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ طلبہ کو زرعی شعبہ جات میں ریسرچ کے لئے اراضی کی ضرورت پڑتی ہے، ایسے میں 100 ایکر اراضی ہائیکورٹ کو الاٹ کرنے سے سائنسدانوں اور ریسرچ اسکالرس کی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ اُنھوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ اگریکلچر یونیورسٹی کے بجائے کسی اور مقام پر ہائیکورٹ کے لئے اراضی منظور کی جائے۔ مجلس کے ماجد حسین نے بل کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ عدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں عوام انصاف سے محروم ہیں۔ اُنھوں نے زیرالتواء مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی پر توجہ دینے کی اپیل کی۔ بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے تلنگانہ سیول کورٹس ترمیمی بل کی تائید کی۔ 1