ریاست کی کانگریس حکومت ، مرکزی حکومت کی راہ پر ، سی آئی ٹی یو قائد اے ملیشم کا الزام
میدک۔25 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سی آئی ٹی یو کے ضلع سکریٹری اے ملیشم نے مطالبہ کیا کہ کانگریس حکومت 2023 کے اسمبلی انتخابات کے دوران اپنے انتخابی منشور میں آنگن واڑی ملازمین کو ماہانہ 18 ہزار روپے تنخواہ دینے اور ای ایس آئی سہولت فراہم کرنے کے جو وعدے کیے تھے، انہیں پورا کرے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 26 اکتوبر کو حیدرآباد کے اندرا پارک پر منعقد ہونے والے مہادھرنا میں میدک ضلع سے آنگن واڑی ملازمین بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ اس سلسلے میں آنگن واڑی سی ڈی پی او اور ضلع ویمن اینڈ چائلڈ ویلفیئر آفیسر کے دفاتر میں نوٹس حوالے کیے گئے۔اے ملیشم نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں کانگریس حکومت کے قیام کے بعد سرکاری شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ آنگن واڑی ملازمین سے بی ایل او، ایس آئی آر سمیت متعدد اضافی کام لیے جا رہے ہیں، لیکن ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز میں ٹیچرس اور آیا کے عہدوں کی خالی آسامیوں کے باعث ملازمین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض آسامیوں کے لیے درخواستیں طلب کرنے کے باوجود تقررات میں تاخیر کی جا رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کے فنڈز سے چلنے والے پی ایم شری اور پری پرائمری تعلیم کے پروگرام آنگن واڑی ٹیچرس کے ذریعہ چلائے جائیں۔ انہوں نے کہا آئی سی ڈی ایس میں 40 سال خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہونے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ فوائد ادا نہیں کیے جا رہے ہیں اور اہل آیا کو ٹیچر کے عہدوں پر ترقی بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں میدک ضلع کے عہدیداروں پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ریاستی حکومت بھی مزدوروں اور عوامی تحریکوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد ہی واحد راستہ ہے اور 26 اکتوبر کو حیدرآباد میں ہونے والے مسلسل مہادھرنا کے تحت میدک ضلع کی انگن واڑی ملازمین سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔اس موقع پر آنگن واڑی یونین کی ضلع نائب صدر جبین فاطمہ اور سی آئی ٹی یو کے ٹاؤن قائد شوکت موجود تھے۔