مسئلہ جموں وکشمیر: دفعہ 370 کی منسوخی پرآج عدالت عظمیٰ میں ہوگی سماعت

,

   

جموں وکشمیرسے دفعہ 370 کی منسوخی پرآج سپریم کورٹ میں سماعت ہے۔ یہ سنوائی مختلف عرضیوں پرہے۔عرضی گذاروں میں کانگریس لیڈرغلام نبی آزاد،سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری، محمدیوسف تاریگامی بھی شامل ہیں۔وہیں محبوبہ مفتی کی بیٹی التجامفتی نےبھی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔عرضی گذاروں میں صحافی انورادھابھسین نے بھی شامل ہیں۔انورادھانےکشمیرمیں پریس کی آزادی سےمتعلق عرضی دی ہے۔دوسری عرضیوں میں وادی سےبندشوں کواٹھانےاورسیاسی لیڈران کی حراست کوختم کرنےکےکئی چیزوں کی مانگ کی گئی ہے۔

جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے اور اس کے بعد کے حالات پر ہو رہی سماعت کے دوران ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے پچھلے دنوں چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ یہ معاملہ سنگین ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں خود حالات کا جائزہ لینے سری نگر جاؤں گا۔ دراصل جموں وکشمیرکی جیلوں میں بند 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی گرفتاری سےمتعلق عرضداشت پرسماعت کرتے ہوئےچیف جسٹس رنجن گگوئی نے یہ بات کہی ہے۔ حقوق اطفال کارکن اناکشی گانگولی نے کورٹ میں یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے متعلقہ ان کیسوں کی جانکاری مانگی جنہیں ہائی کورٹ کمیٹی دیکھ رہی ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے لئے جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔ اس پر اناکشی کی طرف سے سینئر وکیل حصیفہ احمدی نے کہا ’’ ایسا کرنا بیحد مشکل ہے، ہائی کورٹ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔

عرضی گزار کے وکیل کے اس تبصرہ پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بیحد سنگین معاملہ ہے اگر لوگ ہائی کورٹ میں اپنی اپیل نہیں کر پا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس پر جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ بھی مانگی۔ اس میں انہوں نے پوچھا کہ ہائی کورٹ اپیل کنندگان کی پہنچ میں ہے یا نہیں؟ سی جے آئی نے آگے کہا ’ یہ بیحد سنگین معاملہ ہے۔ میں خود نجی طور پر فون پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بات کروں گا۔ ضرورت پڑی تو ریاست کا دورہ بھی کروں گا‘‘۔ حالانکہ، سی جے آئی نے عرضی گزار کو انتباہ بھی دیا اور کہا کہ اگر آپ کا دعویٰ نکلا تو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔