فہرست رائے دہنگان میں ناموں کا انداز اور ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنا ضروری
آئمہ مساجد کو متحرک ہونے کا مشورہ ، حکومتوں کو جمہوری طاقت کا احساس دلانا اہم
جمعیت العلماء نظام آباد کے خصوصی اجلاس سے جناب عامر علی خان اور مولانا عبدالقوی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19ستمبر ( سیاست نیوز) ملک کے موجودہ حالات سے ہم سب کو اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم اقلیت کو جان بوجھ کر نشانہ بناتے ہوئے ان کے دستوری و انسانی حقوق چھننے ، ان حقوق کو پامال کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہیں ۔ ان کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے ہمیں بھی منظم پیمانہ پر اقدامات کرنے چاہیئے ۔ ان خیالات کا اظہار نظام آباد کے نظام پیالیس میں منعقدہ جمعیت العلماء کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم مدرسہ اشرف العلوم اکبر باغ مولانا عبدالقوی نے کیا ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ موجو دہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ووٹر آئی ڈی کارڈ ( ووٹر شناختی کارڈس ) کو آدھار سے مربوط کیا جائے اور اس کام میں ملت کی رہنمائی میں آئمہ مساجد اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ یہ ایسا کام ہے جسے محلہ واری سطح پر شروع کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ مولانا نے مزید کہا کہ اگر ہم محلہ واری سطح پر تحریک چلاتے ہیں تو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ فہرست رائے دہندگان سے ہمارے نام حذف نہیں کئے جاسکیں گے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے ووٹوں کی اہمیت سمجھنی چاہیئے اور سب سے اہم بات یہ ہیکہ ہمیں اپنی روش تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم آج جو ذلیل رسواء ہورہے ہیں اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہیکہ ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات پر نہیں چل رہے ہیں ۔ اگر ہم اپنے رب کو راضی رکھیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کرسکتی ۔ آج بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے نمازوں سے بھی غفلت برتنی شروع کردی ۔ مساجد ویران دکھائی دیتی ہیں ۔ آئمہ مساجد قوم میں شعور بیدار کرسکتے ہیں ۔ جلسہ کی صدارت صدر جمعیت العلماء نظام آباد حافظ محمد لئیق خان نے کی ۔ اس موقع پر نیوز ایڈیٹر ’’سیاست‘‘ جناب عامر علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیت العلماء ملک گیر سطح پر جو کام کررہی ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ خاص طور پر قانونی سطح پر اس کے اقدامات کی تعریف کی جانی چاہیئے ۔ انہوں نے حافظ محمد لئیق خان کو ایک حرکیاتی شخصیت قرار دیا ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے یہ بھی کہا کہ آج مسلمانوں کو چاہیئے کہ اپنے تمام مسائل کے حل کیلئے مساجد کو مراکز بنائیں اورا ن مراکز کے ذریعہ ملت میں مذہبی ، تعلیمی ، سماجی و سیاسی شعور بیدار کریں ۔ ہمیں شکوے شکایتوں اور یہ کہتے ہوئے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے کہ حکمراں ظالم ہے ، حکمراں دشمن ہے بلکہ ہمیں سب سے پہلے خود کو سدھارنے ، خود کو حقیقت میں مسلمان بنانے کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہیئے ۔ ہم اگر اپنے رب کے قریب ہوں گے ، اپنے رب سے ڈریں گے تو دشمن ہم سے ڈرے گا ، ورنہ وہ ہم پر حاوی ہوجائے گا ۔ آج ہمیں نہ صرف اپنے ووٹر آئی ڈیز کو آدھار سے مربوط کرنا چاہیئے بلکہ رائے دہی کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لینا چاہیئے ۔ ہماری یہ عادت ہوگئی ہیکہ ہم رائے دہی میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں جو نتائج برآمد ہوتے ہیں وہ مایوس کن ہوتے ہیں ۔ جناب عامر علی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایک مسجد کے چار سمتوں میں چالیس چالیس گھروں کا احاطہ بھی کرلیا جائے تو یہ ملت کے تئیں بڑی خدمت ہوگی ۔ انہوں نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کہا کہ 4فیصد تحفظات پر بھی تلوار لٹک رہی ہے ۔ دشمن یہی چاہتے ہیں کہ مسلمان تحفظات سے بھی محروم ہوجائیں ۔ ہمیں حکومتوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی کوشش جاری رکھنی ہوگی تب ہی حکمرانوں کو بھی ہماری اہمیت کا احساس ہوگا ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان نے اپنے فکر انگیز خطاب میں کہا کہ اگر مسلمانوں کی رائے دہی کا فیصد 5-10فیصد بھی بڑھتا ہے تو اس کے خوشگوار نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ روزنامہ سیاست اس معاملہ میں بھی شعور بیدار کرنے میںمصروف ہے ۔ اس موقع پر سیاست کے 75 سال کی تکمیل پر جناب عامر علی خان کو تہنیت بھی پیش کی گئی ۔ اس موقع پر مولانا خضر احمد خان ناظم ادارہ انوار المدارس نظام آباد ، مولانا مرزا ہاشم بیگ ، مفتی شفیع ( نائب صدر ) ، مفتی ابراہیم خان (نائب صدر ) ، مفتی شیخ جابر اشاعتی ( نائب صدر ) ، حافظ اصغر علی رحمانی (نائب صدر ) ، مولانا مختار ، مولانا شجاع الرحمن طلحہ ، مولانا عبدالعلیم اشاعتی ، حافظ عبدالحکیم (سکریٹری ) ، حافظ اشرف علی ( خازن ) ، حافظ محمد اکبر ، حافظ شیخ ذاکر ، حافظ فیاض ، حافظ امتیاز ، حافظ امجد ، حافظ شیخ وسیم ، حافظ ابراہیم ، مولانا جمیل مفتی عابد ، مولانا اعجاز ، مولانا اظہر ، مرزا افضل بیگ ، محمدیوسف اور عبداللہ بھائی چاوش بھی موجود تھے ۔ مولانا غلام رسول قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت اعلماء ہند نظام آباد نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔