مساجد کے انہدام کا ذمہ دار کون ؟ مقامی جماعت اور فورم کی مجرمانہ خاموشی

,

   

٭ توجہ ہٹانے صدر نشین وقف بورڈ کے خلاف مہم
٭ تائید سے دستبرداری اورعہدوں سے استعفی کیلئے تیار نہیں
٭ کار کے اسٹیرنگ پر کنٹرول کیا ختم ہوگیا

حیدرآباد۔ سکریٹریٹ میں دو مساجد کے انہدام کیلئے حقیقی ذمہ دار کون ہیں؟ یہ سوال ان دنوں مسلمانوں کے ذہنوں میں اُبھر رہا ہے اور ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ مساجد کے انہدام کو روکنے میں حکومت کی تائید کرنے والی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ناکام کیوں ہوئیں۔ بظاہر حکومت کی حلیف مقامی جماعت اور اس کی حامی مختلف جماعتوں اور تنظیموں پر مشتمل فورم کی جانب سے مساجد کی موجودہ مقام پر دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن حقیقت میں اس مطالبہ میں کوئی دَم نہیں ہے۔ حکومت کو مساجد کی دوبارہ تعمیر کیلئے مجبور اور راضی کرنا محض بیان بازی سے ممکن نہیں ہے اور مسلمانوں کی قیادت کے دعویدار اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے حکومت کی تائید جاری رکھنا ان کی مجبوری ہے۔ اب جبکہ ملت کے سامنے اپنا چہرہ دکھانے کی ہمت نہیں ہے لہذا اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ مساجد کی بحالی کی بجائے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی برخاستگی کی مہم چھیڑ دی گئی تاکہ بھولے بھالے مسلمان اس مہم کا شکار ہوکر مساجد کو بھول جائیں۔ مساجد کا انہدام ظاہر ہے مسلم قیادت کے دعویداروں کی ناکامی ہے جو شاید اس بات سے واقف تھے کہ کے سی آر حکومت نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے دونوں مساجد کو شہید کریگی۔ کے سی آر کے منصوبہ سے واقفیت کے باوجود مقامی جماعت اور فورم نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی اور انہدام کا انتظار کیا تاکہ بعد میں اردو میڈیا میں سخت الفاظ پر مشتمل احتجاجی بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کو تسلی دی جائے۔ مساجد کے انہدام پر عام مسلمان بے چین ہے

اور وہ چاہتے ہیں کہ کے سی آر حکومت کو مساجد کی دوبارہ تعمیر پر راضی کرنے حکومت کے حلیف ایکشن میں آئیں۔ زبانی بیان بازی کی بجائے عملی احتجاج کا آغاز کیا جائے۔ مقامی جماعت اور اس کی گودی تنظیموں پر مشتمل فورم کی بے حسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں مساجد سے زیادہ اپنے مفادات کی فکر ہے۔ سرکاری اداروں میںکے سی آر نے بعض مسلم جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کرکے انہیں احتجاج سے روکنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ گذشتہ 6 برسوں کے دوران حکومت کے ہر صحیح اور غلط فیصلوں کی مقامی جماعت اور فورم نے تائید کی۔ اپنی کوتاہی اور ناکامی کو چھپانے مقامی جماعت اور فورم نے صدرنشین وقف بورڈ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

وام اچھی طرح جانتے ہیں کہ وقف بورڈ اور اس کے صدرنشین کے کیا اختیارات ہیں۔ اختیارات تو مقامی جماعت کے پاس ہیں جو ٹی آر ایس کی کار کا اسٹیرنگ اپنے ہاتھ میں ہونے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے۔ جب کبھی ان کے مفادات پر ضرب لگی تو مقامی جماعت کی قیادت نے راتوں رات ایماندار و فرض شناس عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹادیا۔ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود میں جب کبھی کسی ایماندار عہدیدار نے غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائی شروع کی تو راتوں رات ان کا تبادلہ کردیا گیا۔ اب صدرنشین وقف بورڈ کی تبدیلی کیلئے ٹوئٹر اور اپنے گودی میڈیا کے ذریعہ مہم سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ کو مساجد کے تحفظ میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دینے سے زیادہ مقامی جماعت و فورم کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے۔ اگر کے سی آر حکومت سے واقعتاً یہ لوگ ناراض ہیں تو پھر حکومت کی تائید سے دستبرداری کا اعلان کیوں نہیں کیا جاتا۔ دونوں مساجد کی شہادت کو ایک ماہ مکمل ہونے کو ہے لیکن مجلسی قیادت اور فورم کے ذمہ دار صرف بیانات تک محدود ہیں اور احتجاج کا کوئی تصور نہیں ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ پر الزامات سے وہ اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مساجد کی شہادت کیلئے جس طرح کے سی آر اور اُن کی حکومت ذمہ دار ہے اسی طرح مجلسی قیادت اور فورم بھی مساوی ذمہ دار ہیں۔ مسئلہ سے توجہ ہٹانے مقامی جماعت اور ٹی آر ایس نے منصوبہ بند سازش سے صدرنشین وقف بورڈ کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کی ہے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ سرکاری عہدوں پر فائز افراد مساجد کی بحالی کیلئے اپنے عہدوں کی قربانی دینے تیار نہیں ہیں۔ فورم کے صدر خود ایک ادارہ اردو اکیڈیمی کے صدرنشین ہیں۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ ، حج کمیٹی و تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں مقامی جماعت و فورم میں شامل تنظیموں کے نمائندے موجود ہیں۔ اگر یہ تمام ایک ساتھ عہدوں سے استعفی دیتے ہیں تو حکومت پر یقینا دباؤ پڑیگا لیکن سرکاری عہدے اور لاکھوں روپئے آمدنی چھوڑنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے اور بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جن کا ضمیر مساجد کے تحفظ کیلئے جاگے گا۔