واشنگٹن؍ پیرس: دنیا کے مختلف ملکوں کی طرف سے اسرائیلی انتہا پسند وزیر بین گویر کے مسجد اقصیٰ کے دورے اور مسجد کے بارے میں ارادوں کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ نے بھی اسرائیلی وزیر کی اس انتہا پسندی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ امریکہ اور یورپی ملکوں میں اسرائیلی وزیر کی مذمت کی گئی ہے۔امریکہ کی طرف سے اس بارے میں کہا گیا ‘انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادات کا اہتمام ناقابل قبول ہے۔’امریکہ نے منگل کو اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر کے مسجد کے احاطے میں یہودی رسومات کی قیادت کرنے پر تنقید کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ویندات پٹیل نے اس بارے میں اپنے بیان میں کہا ‘ اسرائیلی وزیر کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کیلئے مذاکرات کی کوششوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔’امریکی ترجمان نے کہا امریکہ یروشلم کے مقدس مقامات کے حوالے سے تاریخی مسلمات اور اسٹیٹس کو کے ساتھ۔ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ اس لیے اس بارے میں کسی بھی یکطرفہ اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔’فرانس نے بھی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں منگل کے روز انتہا پسند اسرائیلی وزیر ایتمار بین گویر کے آنے کی مذمت کی ہے فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے ‘اسرائیلی وزیر کا اس طرح مسجد اقصیٰ کا دورہ یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کی خلاف ورزی پر مبنی اقدام ہے۔’وزارت خارجہ فرانس نے کہا ‘ یہ نئی اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے۔ اس لیے فرانس اسرائیلی حکومت سے یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کا احترام یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔
‘واضح رہے انتہا پسند اسرائیلی وزیر بین گویر نے منگل کے روز مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اپنے متنازعہ بیان کا اعادہ کرتے ہوئے کہا’ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، جس کیلئے یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ یہودیوں کا’ ٹمپل ماؤنٹ’ ہے۔بین گویر کا یہ بیان مشرق وسطیٰ کے حساس ترین مقامات میں سے ایک کے بارے میں بین الاقوامی قوانین اور مسلمانوں کیلئے ایک نیا چیلنج ہے۔