مسلمانوں پر ایک اور ضرب۔ تعلیم نظرانداز ، تعصب غالب

   

کرناٹک ہائیکورٹ نے کئی ہفتوں سے جاری حجاب مسئلہ پر آخرکار منگل کو فیصلہ سنایا اور مسلم طالبات کے حجاب لگاکر تعلیمی اداروں میں داخلہ پر ریاست کی بی جے پی حکومت کی عائد کردہ پابندی کو حق بجانب قرار دیا ہے۔ 2014 ء کے بعد سے ’’اصلی چہرہ سامنے آئے، نقلی صورت چھپی رہے‘‘ کے مصداق مرکزی اور دیگر ریاستی حکومتیں مختلف فیصلے کرتی جارہی ہیں جو عملی طور پر مسلمانوں کے مذہبی یا تہذیبی تشخص پر ضرب لگارہے ہیں۔ آزاد ہندوستان میں 75 سال سے مسلم طالبات چاہے لڑکیاں ہوں یا خواتین، حجاب لگاکر یا ہیڈ اسکارف کے ساتھ تعلیمی اداروں میں داخل ہوتی رہی ہیں۔ یکایک چند ماہ قبل کرناٹک کے ضلع اڈوپی میں ایک کالج نے تنازعہ پیدا کردیا کہ مسلم طالبات حجاب یا ہیڈ اسکارف کے ساتھ کالج میں یا کلاسیس میں شریک نہیں ہوسکتیں۔ یہ غیر ضروری تنازعہ ہوا جو طول پکڑتا گیا۔ حجاب کا معاملہ کرناٹک کے دیگر اضلاع تک پہونچ گیا جس کے بعد بسواراج بومئی حکومت نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگادی۔ اس کے ساتھ ہی ’’بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ کے نعرے کا ستیا ناس ہوگیاکیوں کہ کئی باحیاء طالبات نے اسکولس یا کالجس کو جانا بند کردیا۔ اِس کے بعد وہ کرناٹک ہائیکورٹ سے رجوع ہوئیں۔ حجاب کی اجازت کے حق میں متعدد عرضیاں داخل کی گئیں۔ ہائیکورٹ نے چند ہفتے اِس معاملہ کا جائزہ لینے میں لگائے اور آخرکار 15 مارچ کو فیصلہ سنایا کہ ریاستی حکومت کا تعلیمی اداوں میں حجاب پر پابندی عائد کرنا درست ہے۔ اِس فیصلے کے لازمی نتیجہ میں کئی مسلم طالبات پڑھائی کے لئے تعلیمی اداروں کو نہیں جائیں گی۔ ایسی صورت میں حکومت اور عدالت کا فیصلہ مودی حکومت کے مشن کے حق میں ہوا یا مخالف اِسے سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ مودی حکومت کی بات کریں تو تین طلاق کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے جس میں مرکزی حکومت نے شادی شدہ مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر ایسا تین طلاق قانون نافذ کردیا جو خواتین کے حق میں کم اور اُن کے لئے پریشانی لانے والا قانون ہے۔