آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں ایک بھی معاشرہ یا ملک ایسا موجود نہیں جو پوری طرح اسلامی زندگی کی بھرپور نمائندگی کررہا ہو اور جس کو دیکھ کر یہ محسوس ہو سکے کہ اسلامی اخلاق کیا ہوتا ہے۔ مسلمان کیا معاملہ کرتا ہے اور کس طرح وہ خطرات کے باوجود سچائی کا دامن نہیں چھوڑتا۔ اس لیے میرے نزدیک اس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ایک ایسا صالح معاشرہ قائم کیا جائے، جو اسلامی تعلیمات کی، ان کی روح کے مطابق نمائندگی کرے اور ان خصوصیات کا حامل معاشرہ ملکوں کی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر جلوہ گر ہو۔ اپنا وزن محسوس کراسکے۔ اس کے بغیر دنیا میں کوئی صالح انقلاب برپا نہیں ہوسکتا، آج پورے عالم اسلام کی کمزوری یہ ہے کہ ہم کسی ایک ملک یا خطے کا نام نہیں لے سکتے، جہاں کوئی آنکھ بند کر کے چلا جائے اور دیکھ لے کہ اسلام عملى زندگی میں کیسا ہوتا ہے، اسلامی اخلاق کیسے ہوتے ہیں، جہاں دیکھا جاسکے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا، ناپ تول میں کی نہیں کرتا ، دھوکہ نہیں دیتا، مسلمان زر کا پرستار نہیں ہے، وقتی منافع کی خاطر دائمی منافع کو ضائع نہیں کرتا، وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ مسلمان ظلم کرنا نہیں جانتا اسے سیم و زر کی بڑی سے بڑی ترغیب اور دولت خرید نہیں سکتی۔ وہ اپنے ضمیر کے خلاف کام نہیں کرتا، وہ جس بات کو حق کہتا ہے اس پر اپنا گھر لٹا سکتا ہے، اور اپنا سر کٹا سکتا ہے، اپنے خاندان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اوراس کی خاطر اپنے پیٹ پر پتھر باندھ سکتا ہے، اور فاقہ کرکے مر سکتا ہے۔ آج پوری دنیائے اسلام کی سب سے بڑی احتیاج، اس کا سب سے بڑا فاقہ، اس کا سب سے بڑا فقر، سب سے بڑی تڑپ اور سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کوئی ایسا معاشرہ قائم ہوجائے کہ جس کی طرف ہم انگلی اٹھا کر فخر سے یہ کہہ سکیں کہ اسلام کو دیکھنا ہے تو اس معاشرے کو دیکھ لو۔ یہ چلتا پھرتا اسلام ہے، یہ زندہ شریعت محمدیﷺ ہے۔
✍🏻 مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ(سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
پیشکش: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ