ہرش مندر
ملک میں خاص طور پر بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں میں بلڈوزر کا بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر بلڈوزر مسلمانوں کے گھروں پر چلائے جارہے ہیں۔ ان کے گھروں کو مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے منہدم کیا جارہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2022ء اور 2023ء میں منہدم کردہ گھروں میں سے 44 فیصد مکانات مسلمانوں کے تھے۔ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران ملک میں ایک ایسا پیٹرن بن گیا ہے کہ قانونی عمل کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے اور دستورپا آئین کی خلاف ورزیوں کو ایک فیشن بنادیا گیا ہے۔ اگر ہم ملک میں خاص طور پر بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں بلڈوزر کاررائیوں پر غور کریں تو اس نتیجہ پر پہنچنے ہیں کہ 2017ء میں مختلف بہانوں کے ذریعہ بلڈزوروں کا استعمال شدت اختیار کر گیا۔ انہدامی کارروائیوں میں تیزی پیدا ہوئی۔ اگرچہ شہروں میں ایک طویل عرصہ سے انہدامی کارروائیاں کرتے ہوئے شہریوں کو بیدخل کیا جارہا ہے، بستیاں اجاڑی جارہی ہیں، بازاروں کا نام و نشان مٹایا جارہا ہے لیکن بلڈوزر کو انتقامی اور تعزیری کارروائی کے طور پر استعمالکرنے کی وجہ سے اس طرح کی کارروائیوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا اور ان کارروائیوں کا افسوسناک اور قابل تشویش پہلو یہ ہیکہ اس کے ذریعہ زیادہ تر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر اکثر و بیشتر احتجاجی مظاہروں اور فرقہ وارانہ کشیدگی یا فسادات کے فوری بعد چلائے جاتے ہیں، بعض وقت ایسا بھی دیکھا گیا کہ بنا کسی وجہ کے گھروں پر بلڈوزر چلادیئے گئے اور ایسا صرف اور صرف متاثرین کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔ یہاں یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ بلڈزور فی الوقت اکثریت پسندی کی نمائش میں ریاست کے اقتدار اور مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کی علامت بن گیا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک میں انہدامی کارروائیوں کی بات کرتے ہیں تو یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ پچھلے دس بارہ برسوں میں ہمارے ملک میں وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت اور ان کی حکومت میں بے شمار انہدامی کارروائیاں انجام دی گئیں جس کا بخوبی اندازہ ہاؤزنگ اینڈ لینڈ رائٹس نیٹ ورک (HLRN) کی ایک رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انکشاف کیا گیا کہ 2017ء سے 2023ء کے دوران انہدامی کارروائیوں (بلڈوزر انصاف) کے نتیجہ میں 16.8 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ملک بھر میں سال 2019ء کے دوران ایک لاکھ سات ہزار چھ سو پچیس انہدامی کارروائیاں کی گئیں جو سال 2022ء میں بڑھ کر 2,22,686 ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف 5 برسوں میں انہدامی کارروائیوں میں تقریباً 380 فیصد اضافہ ہوا۔ اعدادوشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2022ء اور 2023ء میں جن کے گھر منہدم کئے گئے ان میں سے 89 فیصد مسلمان درج فہرست طبقات و قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2023ء میں ویب سائیٹ آرٹیکل 14 نے بتایا تھا کہ کس طرح قانون کی موجودگی کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے اور اکثر اوقات نوٹسیں اس وقت دی گئی جب توڑپھوڑ کرنے والی ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی تھی۔ مذکورہ قانون کے مطابق انہدامی کارروائی سے پہلے نوٹسیں دینا اور متاثرہ افراد کی بازآباد کاری کرنا ضروری بلکہ لازمی ہے۔ صرف تین ماہ کے دوران ہماری دارالحکومت دہلی میں چار بڑی انہدامی کارروائیاں کی گئیں جس میں زائداز 1600 مکانات گرائے گئے اور تقریباً 260000 افراد بے گھر ہوگئے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں 2060 سے زائد لوگوں کو ان کے مکانات منہدم کرتے ہوئے بیدخل کرنا ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔ ایک طرف مودی جی غریبوں اور کمزوروں کی مدد پر زور دیتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے مکانات منہدم کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر فروری 2023ء میں مودی نے G-20 ملکوں کے مالیاتی سربراہان سے پسماندہ ترین لوگوں کی مدد پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے زور دیا لیکن اپنے مشورہ کے برعکس ان کی حکومت نے دہلی میں شدید غربت کا شکار لوگوں کے گھروں کو منہدم کروایا۔ حقوق انسانی کے ایک جہدکار آنند لکھن نے فرنٹ لائن کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں انصاف کی امیدوں کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں عدالتیں پہلے متاثرین کو انصاف دلانے میں سرگرم کردار ادا کیا کرتی تھیں لیکن اب وہ اپنے ماضی کے سرگرم کردار سے پیچھے ہٹ گئیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہدامی کارروائیوں کیلئے بلڈوزر روانہ کرتے وقت ریاستی حکام آئنی حقوق و قانون کی حکمرانی کی ضرورتوں کی پرواہ نہیں کرتے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ ہندوستانی قانون کی کسی بھی کتاب میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ریاست کو یہ اختیار دیتا ہو کہ صرف الزام کی بنیاد پر کسی کی بھی جائیداد کو تباہ کردیا جائے۔ اس بارے میں دہلی ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اے پی شاہ نے بہت خوب کہا ہے کہ صرف مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونا کبھی بھی کسی کا مکان گرانے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے سابق جج مدن لوکر دریافت کرتے ہیں کہ آخر کس قانون کے تحت انتظامیہ اس جرم کیلئے کسی کا گھر منہدم کرسکتی ہے جو ابھی تک ثابت ہی نہیں ہوا یا ثابت نہیں کیا جاسکا۔ ایک بات ضرور ہیکہ بلڈوزر کو بائیکاٹ والی نفرت کی سیاست کیلئے ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ آرٹیکل 14 جیسی ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں مدھیہ پردیش کے اجین شہر کا حوالہ دیا جہاں پولیس نے ہندوؤں کے جلوس پر تھوکنے کے بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے 3 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا حالانکہ ہندوؤں کے جلوس پر ان نوجوانوں کے تھوکنے کے کوئی ثبوت موجود نہیں تھے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہیکہ ڈھول بجاتے ہوئے اور موسیقی کے ساتھ بلدی حکام نے ان مسلم نوجوانوں کا گھر یہ کہہ کر منہدم کردیا کہ عمارت خطرناک حالت میں تھی شکستہ تھی۔ اس طرح کے واقعات میں جو پوری طرح ناانصافی پر مبنی تھے ایک مخصوص پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے خوشیاں منائی حالانکہ انہیں اچھی طرح اندازہ ہیکہ گھر بڑے مشکل سے بنتے ہیں۔ ان کے تباہ ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ ایک گھر بنانے کیلئے لوگ اپنی ساری ساری زندگیاں لگادیتے ہیں۔ اگر آپ انہدامی کارروائیوں کا انداز دیکھیں گے تو پتہ چلتا ہے کہ اچانک ہندو مذہبی جلوس مساجد کے قریب آ کر رک جاتے ہیں جہاں جلوس میں شامل لوگ بڑی آواز میں موسیقی بجاتے ہیں اور شرپسندوں ان گانوں پر پاگلوں کی طرح رقص کرتے ہیں اور ان گانوں کے ذریعہ مسلمانوں اور ان کے پیغمبر ان کے مذہب کی توہین کی جاتی ہے فحش کلامی کی جاتی ہے اور پھر فرقہ وارانہ جھڑپوں کے واقعات پیش آتے ہیں اور پھر چند گھنٹوں یا ایک دو دن میں مسلمانوں کے مکانات، دکانات منہدم کرنے کیلئے بلڈوزر آجاتے ہیں جبکہ تشدد میں ملوث ہندو شرپسندوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا انہیں کسی قسم کی سزاء نہیں دی جاتی۔ پولیس اور انتظامیہ صرف یکطرفہ کارروائی کرتی ہے۔ حد تو یہ ہیکہ صرف اور صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے بڑی عجلت میں جو انہدامی کارروائیاں کی جاتی ہیں بعض وقت ان جائیدادوں یا مکانات کو منہدم کردیا جاتا ہے جو ان افراد کی ملکیت ہی نہیں ہوتی جو حکومت کے نشانہ پر ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے حکومتوں، انتظامیہ اور سیاسی قائدین کی تعصب و جانبداری کا برملا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ فروری 2024ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 128 انہدامی واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا خاص طور پر مسلمانوں کے مکانات، دکانات اور مساجد کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور یہ واقعات زیادہ تر بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں میں پیش آئے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی حکومت میں بھی مسلمانوں کے گھروں کو منہدم کیا گیا۔