مولانا فہیم الدین، سمیع اللہ بیگ اور ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد کا خطاب
حیدرآباد۔ 12 مارچ (پریس نوٹ) اس وقت مسلمان جن سنگین حالات سے گزر رہے ہیں اور باطل طاقتیں جس طرح اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈہ کررہی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمان دین کی بنیاد پر اپنے اتحاد کا ثبوت دیں اور ہر قسم کے فروعی اختلاف سے گریز کریں۔ اگر یہ امت کلمہ کی بنیاد پر متحد ہو جائے گی تو کوئی اس کے درپہ آزاد نہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار تحریک اسلامی کے دیرینہ داعی مولانا محمد فہیم الدین، سابق رکن شوریٰ جماعت اسلامی ہند حلقہ کرناٹک نے آج سید مودودی ؒ لکچر ہال، چھتہ بازار میں جماعت اسلامی ہند چارمینار کے اجتماع عام کو ’’اتحاد امت کیوں اور کیسے؟‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امت میں اختلاف باعث رحمت ہے لیکن اسے انتشار کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ سارے کلمہ گو ہمارے بھائی ہیں، ان کی عزت و تکریم کرنا دینی فریضہ ہے۔ مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ حقیقی اتحاد کے لئے صبر و تحمل اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ جناب مرزا سمیع اللہ بیگ، رکن جماعت اسلامی ہند بہادر پورہ نے سورہ آل عمران کی آیات کا درس دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ اے لوگو! اللہ سے ایسا ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ آگے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تاکید کی کہ وہ سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن مجید) کو مضبوطی سے تھام لیں اور آپس میں تفرقہ کا شکار نہ ہوں۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد، امیر مقامی، جماعت اسلامی ہند چارمینار نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ امت کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اتحاد امت کی کوشش ہر دور میں ہوتی رہی ہیں اور اس کے بہتر نتائج سامنے آتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وفاق العلماء کی جانب سے حیدرآباد میں ریاستی علماء کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں دو ہزار سے زائد علماء کرام شریک رہے اور ہر ایک نے اسی بات کو دہرایا کہ امت میں اختلاف کے باوجود اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ علماء کا یہ پیغام ملت کے اتحاد کا سنگ میل ثابت ہوگا۔ جناب محمد حامد نے نظامت کی۔