کئی مساجد میں شہید اسماعیل ھنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ ۔ مظلوم فلسطینیوں کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام
حیدرآباد 3 اگسٹ (سیاست نیوز) حیدرآباد کے فلسطین سے تعلق اور شہر حیدرآباد کے غیور مسلمانو ںنے شہر کی مختلف مساجد میں شہید اسماعیل ھنیہ کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی اور دونوں شہروں میں مختلف مقامات پر خطبہ جمعہ کے دوران آزادی مسجد اقصیٰ اور مجاہدین فلسطین کی کامیابی و کامرانی کیلئے خصوصی دعا کی ۔ مسئلہ فلسطین پر شہر کے عام مسلمانوں میں بے چینی اور تحریک فلسطین کے قائد اسماعیل ھنیہ کی ناگہانی موت پر دکھ اور صدمہ کا اظہار کرکے ارض فلسطین کے تقدس اور قبلہ ٔ اول کی اہمیت کے متعلق واقف کروایا گیا۔ مسجد عزیزیہ ہمایوں نگر ‘ مسجد اجالے شاہ سعید آباد‘ جامع مسجد دارالشفاء کے علاوہ دیگر مساجد میں مسئلہ فلسطین پر خصوصی خطاب میں اسرائیل کی ظالمانہ کاروائیوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ اسرائیل سرزمین فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کئے ہوئے ہے اور معصوم فلسطینی عوام کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے اس کے باوجود دنیا میں انسانیت کے تحفظ کے نام نہاد دعویدار خاموش تماشائی ہیں۔ ایران میں اسماعیل ھنیہ کی شہادت کی شدید مذمت کرکے حکومت ایران کی جانب سے ان کی حفاظت میں ناکامی پر بھی جواب طلب کیا گیا۔ اسماعیل ھنیہ کی شہادت پر امت مسلمہ سے اپیل کی گئی کہ وہ مسئلہ فلسطین کی حساسیت کو سمجھیں اور اپنی نسلوں کو اس سے واقف کروائیں کیونکہ مسئلہ فلسطین مسلمانوں کے ایمان سے جڑا ہے لیکن اسے ایک خطہ اراضی اور جغرافیائی مسئلہ کے طور پر پیش کرکے مذہبی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ علمائے اکرام نے اسرائیلی مظالم کو شرمناک اور انتہائی ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مظالم کے خلاف عام مسلمان جدوجہد تو نہیں کرسکتے لیکن احادیث مبارکہ میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ہے کہ ’دعاء مومن کا ہتھیار ہے‘ اسی لئے عوام کو اس ہتھیار کا استعمال کرکے معصوم غزہ کے شہریوں اور فلسطینی مسلمانوں کو اپنی دعاؤوں میں شامل رکھنا چاہئے ۔ دعائیہ اجتماعات کے علاوہ مختلف مقامات پر شہید قائد حماس اسماعیل ھنیہ کی یاد میں جلسہ منعقد کرکے ان کو خراج پیش کیا گیا اور ان کے خاندان کی قربانیوں کو یاد کیاگیا۔ اس کے علاوہ 3 اگسٹ کو خواتین سعیدآباد کی جانب سے عیدگاہ اجالے شاہ میں شہدائے فلسطین کے حق میں اور ارض مقدس کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنے والوں کیلئے خصوصی دعاء کی گئی اور قنوت نازلہ کا اہتمام کیاگیا اور خواتین کیلئے مخصوص اس پروگرام میں ہزاروں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔3