مس انگلینڈ کے الزامات کی جانچ کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل

   

چیف منسٹر کا عہدیداروں سے ربط، ہراسانی کی سچائی کا پتہ چلانے کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 25 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مس ورلڈ مقابلہ کے دوران مس انگلینڈ ملی موگی کے ساتھ ناشائستہ سلوک کی شکایت پر جامع تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ سینئر آئی پی ایس عہدیدار شیکھا گوئل، آئی پی ایس آر راجیشوری اور سائبر آباد کے ڈی سی پی سائی شری کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا جائزہ لے گی کہ مس ورلڈ مقابلہ میں حصہ لینے والی حسیناؤں کو آیا منتظمین سے ہراسانی یا مسائل کا سامنا ہے۔ انگلینڈ نے جو الزامات عائد کئے ہیں ان میں سچائی کا پتہ چلانے کے لئے تین سینئر خاتون عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی کو اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم میں مقابلہ حسن میں شامل حسیناؤں سے بات چیت کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کرنا شروع کردیا ہے۔ بیانات کی ویڈیو گرافی کی جارہی ہے تاکہ ثبوت اکٹھا کیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مس انگلینڈ کی شکایت پر تشویش کا اظہار کیا اور بعض گوشوں کی جانب سے تلنگانہ کی امیج کو متاثر کرنے کی کوششوں کا افسوس ظاہر کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر منتظمین کے رویہ اور انتظامات کے سلسلہ میں عہدیداروں سے مسلسل ربط میں ہے۔ چیف منسٹر نے مس ورلڈ مقابلہ کی سی ای او جولیا مارشا اور پرنسپل سکریٹری سیاحت جیش رنجن سے انتظامات کے سلسلہ میں تفصیلات حاصل کی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم اس ڈنر پارٹی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جس میں مس انگلینڈ نے حصہ لیا ۔ ڈنر میں مس انگلینڈ کے ساتھ موجود افراد کی تفصیلات اور ان کے نام حاصل کئے جارہے ہیں تاکہ مس انگلینڈ کو مبینہ طور پر ہراسانی کی سچائی کا پتہ چلایا جاسکے۔ مس انگلینڈ مقابلہ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے منتظمین کو اطلاع دیئے بغیر ہی وطن واپس ہوگئیں اور وہاں کے اخبارات میں ان کا انٹرویو شائع ہوا۔ تحقیقاتی ٹیم نے منتظمین میں شامل افراد کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں اور ہراسانی معاملہ کی سچائی پر حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ 1