دیتے رہیں گے کب تک، دنیا میں امتحاں ہم
آئو بنائیں اب کے، جنت میں آشیاں ہم
مشرق وسطی میںقیام امن کی راہ ہموار ہوئی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط کردئے گئے ہیں۔ شیڈول کے مطابق اس معاہدہ پر جمعہ کو سوئیٹزرلینڈ میں دستخط ہونے والے تھے تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جی 7 چوٹی کانفرنس کے دوران ہی اس پردستخط کردئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس معاہدہ کے تحت آبنائے ہرموز کو پوری طرح کھول دیا جائے گا ۔ وہاں وہی تجارتی سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی جو جنگ کے آغاز سے قبل تھیں۔ اس کے علاوہ ایران کبھی بھی نیوکلئیر ہتھیار حاصل نہیںکرے گا ۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کو نقصانات کی پابجائی کے طور پر 300 بلین ڈالرس ادا کئے جائیں گے ۔ یہ معاہدہ خطہ میںامن کی راہ ہموار کرنے کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں ہلکی کشیدگی بھی پیدا ہوئی ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل کا وجود ہی ان سے اور امریکہ کی وجہ سے ہے ۔ ٹرمپ کا دعوی تھا کہ انہوں نے اسرائیل کیلئے وہ کچھ کیا ہے جو دوسرے امریکی صدور نے نہیں کیا تھا ۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی اس معاملے میںزیادہ کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں اور انہوںنے تو نتن یاہو پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے معاملے میںامریکہ کو گمراہ کیا ہے ۔ انہوںنے حقائق ٹرمپ سے پوشیدہ رکھے تھے ۔ ایک ماہ طویل جنگ کے بعد جنگ بندی کا مرحلہ شروع ہوا تھا اور دو ماہ کے دوران مختلف ادوار کی بات چیت اور پیامات کے تبادلے کے بعد بالآخر ایران اور امریکہ کے مابین یادداشت مفاہمت کے تعلق سے اتفاق رائے ہوگیا تھا ۔ کہا گیا تھا کہ معاہدہ پر سوئیٹزر لینڈ میں دستخط کئے جائیں گے تاہم شیڈول سے قبل ہی اس پر دستخط بھی کردئے گئے اور اس معاہدہ کا متن بھی منظر عام پر آگیا ہے ۔ اس معاہدہ کے نتیجہ میںدنیا بھر میں فیول اور گیس کی سپلائی کا سابقہ نظام بحال ہو جائے گا اور دنیا بھر میں جو قلت پیدا ہونے لگی تھی اسے دور کیا جاسکے گا ۔
اس معاہدہ کے نتیجہ میں ایران کی تعمیر نو کا بھی آغاز ہوگا اور ایران میں عوام کیلئے جو مشکل دور تھا وہ ختم ہوسکتا ہے ۔ وہاں معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوسکتی ہیں۔ ایرانی تیل کی فروخت کا سلسلہ شروع ہوجائے تو ایران کے عوام کو سہولیات مل سکتی ہیں اور وہاں عوام کے حالات زندگی بہتر ہوسکتے ہیں۔ ایران نے اپنی کامیاب حکمت عملی کے ذریعہ ایک بڑی کامیابی اس معاہدہ کی شکل میں حاصل کرلی ہے اور اس سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ طاقت کے آگے جھکنے کی بجائے اپنے حق کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہونا ہی اصل کامیابی ہے ۔ جو معاہدہ ہوا ہے اس کو ایک نقطہ آغاز بناتے ہوئے صرف ایران تک اسے محدود نہیں رکھا جاناچاہئے بلکہ سارے مشرق وسطی اور خلیج فارس کے علاقہ میں امن قائم کرنے کی سمت پیشرفت کی جانی چاہئے ۔ اسرائیل پر لگام کسنے کیلئے بھی تیاریاں کی جانی چاہئے ۔ جس طرح سے اسرائیل لبنان میں حملے کر رہا ہے ان کا سلسلہ روکا جانا چاہئے ۔ غزہ اور فلسطین کے مغربی کنارہ میںاس نے جو توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ کام شروع کئے ہیں ان کو روکا جانا چاہئے ۔ جس طرح ایران کے ساتھ معاہدہ طئے کردیا گیا ہے اسی طرح آزاد مملکت فلسطین کے قیام کی سمت بھی پیشرفت ہونی چاہئے ۔ فلسطین دنیا کا ایک سب سے بڑا اور حساس مسئلہ ہے اور طویل عرصہ سے اسے التواء میں رکھا گیا تھا ۔ اس کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسرائیل کو طاقت کی زبان ہی میںسمجھاتے ہوئے مسئلہ فلسطین کی یکسوئی بھی کی جاسکتی ہے ۔
لبنان میں حملوں کو روکنے کیلئے بھی اسرائیل پر دباؤ ڈالا جانا چاہئے اور غزہ میں اس نے جو تباہی مچائی ہے اس کا ہرجانہ وصول کیا جانا چاہئے ۔ فلسطینیوں کیلئے بھی حالات کو بہتر بنانے کی جدوجہد شروع کی جانی چاہئے ۔ عالمی برداری کو اور خاص طور پر علاقہ کے ممالک کو امریکہ ۔ ایران معاہدہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے نہتے فلسطینیوں کیلئے بھی آواز اٹھانی چاہئے اور مملکت فلسطین کے قیام کیلئے کوششوں کو تیز کیا جانا چاہئے ۔ فلسطین کا مسئلہ اگر حل کرلیا جائے تو علاقہ میںدیرپا امن کی امیدوں کو تقویت اور استحکام حاصل ہوگا اور ایسا کرنا ساری عالمی برادری اور علاقہ کے تمام ممالک کی ذمہ داری ہے جسے پورا کیا جانا چاہئے ۔