مشرق وسطی کی تنظیم جدیدکا منصوبہ!

   

ہم الجھنوں میں کہاں جاکے سر چھپائیں گے
تھی پہلے زندگی، اب موت بھی خفا سی ہے
ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مسئلہ پر جاری مذاکرات کے دوران امریکہ ایک بار پھر سے ایک نیا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ خلیجی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بن جائیں گ۔ اس معاہدہ میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ مختلف مسلم ممالک اور خاص طور پر خلیجی ممالک مملکت فلسطین کے قیام کی شرط عائد کئے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ یہ ایک ایسی شرط ہے جس کے ذریعہ امریکی صدر ایران کے خلاف جنگ سے دوری اختیار کرنے رضامند ہوسکتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے خلاف جو جنگ مسلط کی گئی تھا اس کا اس معاہدہ سے راست کوئی تعلق نہیں تھا ۔ تاہم اب یہ واضح ہونے لگا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سارے وسط ایشیاء میں صرف اسرائیل کی ایماء پر تباہی مچانے کے ذمہ دار رہے ہیں اور وہ اسرائیل کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے سارے علاقہ کو جنگ میںڈھکیل چکے تھے ۔ حالانکہ اس جنگ میں امریکہ کے ہاتھ سوائے ناکامی کے کچھ نہیں آیا اور ایران کے تعلق سے عالمی برادری میں ایک اچھی رائے بھی قائم ہوئی ہے اور جنگ بندی کا معاہدہ خود امریکہ کے مفاد میں ہوگا اس کے باوجود ٹرمپ اب اصل ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں۔ گذشتہ کئی دنوں سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مسئلہ پر بات چیت بالکل قطعی مراحل میں پہونچ چکی ہے اور معاہدہ کا کسی بھی وقت اعلان ہوسکتا ہے ۔ اس طرح سے دنیا کو ایک طرح سے گمراہ کیا گیا کیونکہ ایک دن قبل امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران میں کسی مقام پر حملے کئے گئے تھے اور اب صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ابراہیمی کی شرط عائد کی جا رہی ہے جو علاقہ کے کئی ممالک کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔ اس شرط کے ذریعہ ایک طرح سے صدر ٹرمپ مملکت فلسطین کے واجبی اور جائز مطالبہ کو ختم کردینا چاہتے ہیں جو در اصل اسرائیل کا منصوبہ ہے ۔ ٹرمپ اسرائیل کے اسی منصوبہ کو عملی شکل دیتے ہوئے جنگ کی شروعات کے مرتکب ہوئے ہیں اور جنگ ختم کرنے بھی اسی منصوبہ کی بات کی جا رہی ہے ۔
جہاں تک بات مملکت فلسطین کی ہے تو دنیا کے ممالک کی اکثریت آزاد مملکت فلسطین کی حامی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا وجود بھی برقرار رہے تاہم مملکت فلسطین کے نظریہ سے دستبرداری اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ اسرائیل یہی چاہتا ہے کہ فلسطینی مملکت کا نظریہ ہی ختم ہوجائے ۔ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے کچھ ماہ قبل سے اسرائیل کے انتہاء پسند وزراء اور دیگر قائدین یہ بیانات دے رہے تھے کہ آزاد مملکت فلسطین کا نظریہ ختم ہوچکا ہے اور اب ٹرمپ بھی تقریبا یہی بات دہرانے لگے ہیں۔ فلسطینی کاز کو ترک کرنا عرب اور اسلامی ممالک کیلئے اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا امریکہ اور اسرائیل سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ فیصلے حکومتوں کی جانب سے کئے جاتے ہیں لیکن ان میںعوامی جذبات کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اور عوام کی اکثریت فلسطینیوں کی حامی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ فلسطین ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے ۔ انہیں بھی زندگی جینے کیلئے وہ سہولیات دستیاب ہوجائیںجو ساری دنیا کے عوام کو میسر ہیں۔ علاقہ کے کم از کم کچھ اہم ممالک راست طور پر ٹرمپ کی اس شرط سے اتفاق نہیں کرسکتے اور جو ممالک اتفاق کرسکتے ہیں انہوں نے پہلے ہی آزاد مملکت فلسطین کی شرط کے بغیر ہی اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی پوری طرح بحال کرچکے ہیں۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ ان کے درمیان خفیہ دوروں کا بھی سلسلہ جاری ہے ۔
ایران جنگ کے اختتام سے اسرائیل کے وجود کو جوڑنے کی کوشش صدر ٹرمپ کے خفیہ عزائم کی عکاس ہے اور اس کے ذریعہ صیہونی ایجنڈہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ کب ختم ہوگی اور اس کا سلسلہ کب تک چلے گا یہ کہنا فی الحال مشکل ہی ہوگیا ہے تاہم یہ ضرور کہا جاستکا ہے کہ صدر ٹرمپ کی شرط کے مطیابق معاہدہ ابراہیمی کو خلیجی و عرب ممالک کی جانب سے تسلیم کیا جانا اتنا آسان نہیں ہوسکتا جتنا سمجھا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ کو اس طرح کی کوششوں سے باز آجانے کی ضرورت ہے اور ہر مسئلہ کو اس کی نوعیت کے اعتبار سے الگ رکھ کر نمٹا جانا چاہئے ۔ یہی وقت کا تقاضہ بھی ہے ۔