گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میں
اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ ملک کی معیشت مشکل حالات کا شکار ہوگئی ہے ۔ ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر پہونچ رہی ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ خود حکومت کی جانب سے بھی عوام سے کفایت شعاری اختیار کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ مرکزی وزراء ‘ ریاستی چیف منسٹروں اور دیگر سرکاری عہدیداروں کی جانب سے اپنے قافلہ کی گاڑیوں میں تخفیف کی جا رہی ہے ۔ عہدیداروں کے بیرونی دوروں پر امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ کچھ شہروں میں سرکاری دفاتر میں بھی ورک فرم ہوم کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ خود ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں۔ پٹرول اور ڈیزل کی بچت پر توجہ مرکوز کریں۔ غیر ضروری بیرونی سفر سے گریز کیا جائے اور یہاں تک کہ کھانے میں بھی تیل کا استعمال کم سے کم کیا جائے ۔ یہ سب کچھ حالانکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کہا گیا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ ملک کی معیشت کی حالت وہ نہیں ہے جو حکومت پیش کر رہی ہے ۔ کچھ مشکلات ضرور بڑھی ہیں اور معاشی روانی متاثر ہوئی ہے ۔ اس سلسلہ میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی ان دنوں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ راہول گاندھی بارہا یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ ملک میں معاشی بحران کے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ آئندہ چند ماہ میں حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں اور حکومت حقائق ملک کے عوام کے سامنے پیش کرنے کی بجائے محض دکھاوے کے چند اقدامات کر رہی ہے ۔ راہول گاندھی کا دعوی ہے کہ ملک میں معاشی سونامی جیسی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے اور حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے وہ کچھ اقدامات نہیں کر رہی ہے جو اسے کرنے چاہئیں ۔ راہول گاندھی کے بیانات پر حکومت کی جانب سے وقفہ وقفہ سے رد عمل کا اظہار بھی ہو رہا ہے اور یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ راہول گاندھی اور کانگریس پارٹی ملک میں نراج اور بے چینی کی کیفیت پیدا کر رہے ہیں۔ ریزرو بینک کابھی دعوی ہے کہ ہندوستان کی معیشت دیگر ممالک کے مقابلہ میں مستحکم ہے اور کسی طرح کے اندیشوں کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ وزراء کی جانب سے بھی اسی طرح کے بیانات عوام کے سامنے دئے جا رہے ہیں۔
جہاں تک راہول گاندھی کی بات ہے تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کے عوام کو متنبہ کر رہے ہیں اور انہیں چوکس رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ماضی کی مثالیں موجود ہیں کہ جب کبھی راہول گاندھی نے کسی طرح کے اندیشوں کا اظہار کیا ہے وہ بعد میں حقیقت میں تبدیل ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال کی طرح ماضی میں بھی راہول گاندھی کے اندیشوں کو حکومت کی جانب سے مسترد کردیا گیا تھا اور مذاق کا موضوع بنادیا گیا تھا ۔ تاہم بعد میں یہی اندیشے درست بھی ثابت ہوئے ہیں۔ اب بھی راہول گاندھی جس طرح کے اندیشوںکا اظہار کر رہے ہیں وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے ۔ 145 کروڑ عوام یہاں رہتے بستے ہیں اور ہندوستان کی معیشت میں روانی کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اگر معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے لگتی ہیں تو اس کے ملک کی معیشت پر اثرات مرتب ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت صرف بیان بازیوں پر اکتفاء کر رہی ہے ۔ خود حکومت کے ذمہ داروں کی جانب سے عوام کو کفایت شعاری کا مشورہ بھی دیا جا رہا ہے اور خود معاشی مشکلات سے انکار بھی کیا جا رہا ہے ۔ خود مرکزی حکومت کے بیانات اور اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ ملک کی معیشت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس مسئلہ کو محض بیان بازیوں سے یا پھر گودی میڈیا کے تبصروں اور پروپگنڈہ کے ذریعہ حل نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کیلئے سنجیدہ اور موثر کوششوں کی اور ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے ۔
گذشتہ 12 سال سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور لگاتار یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے ۔ ملک میں جو مہنگائی کی شرح ہے اس سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہونے لگا ہے ۔ روزگار کی شرح گھٹ گئی ہے ۔ بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ملک کے 80 کروڑ افراد کو حکومت سے مفت راشن دیا جا رہا ہے ۔ اس صورتحال میں حقیقت سے چشم پوشی مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی ۔ حکومت کو اس مسئلہ پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔جو حقیقی صورتحال ہے وہ عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئے اور جو کچھ بھی ضروری اقدامات ہوں ان سے گریز نہیں کیا جانا چاہئے ۔ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سبھی کو اعتماد میں لیتے ہوئے ملک کی معیشت کو مستحکم رکھنے کیلئے جامع اور موثر اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔
انڈیا اتحاد کی جماعتوں کا اجلاس
ملک میں اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں کا ایک اجلاس پیر 8 جون کو دہلی میں ہونے والا ہے ۔ حالیہ اسمبلی انتخابات اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی شکست کے بعد یہ اجلاس ہونے والا ہے ۔ اس اعتبار سے بھی یہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے کہ آئندہ چند ماہ کے بعد ملک کی کچھ اور اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے عوام میں ایک طرح سے جو بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اس کے پیش نظر بھی انڈیا اتحاد کا یہ اجلاس اہمیت کا حامل ہے ۔ اتحاد میں شامل جماعتوںکیلئے ضروری ہے کہ وہ مستقبل کے منصوبوں کو ابھی سے قطعیت دینے میں مصروف ہوجائیں ۔ عوام کے موڈ کو سمجھتے ہوئے ان کی توقعات کے مطابق اپنے منصوبے تیار کریں۔ جو جماعتیں اس اتحاد سے ناراض ہوگئی ہیں انہیں منانے کی کوشش کی جائے ۔ نئی جماعتوں کو اس میں شامل کرنے کیلئے بھی سرگرمی دکھائی جائے ۔ اتحاد کیلئے ایک واضح روڈ میاپ تیار کیا جائے ۔ تمام جماعتوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی طور پر اس اتحاد کی کامیابی کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے عوام سے رجوع ہونے اور ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کریں۔