تلنگانہ سے ہر سال 7000 میٹرک ٹن آم کی روانگی، قیمتوں میں کمی سے عام آدمی کی آم تک بہ آسانی رسائی
حیدرآباد 14 اپریل (سیاست نیوز) مغربی ایشیاء میں جاری بحران کے نتیجہ میں ہندوستانی آم کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں جس کے نتیجہ میں اُمید کی جارہی ہے کہ ملک میں عام آدمی کو کم قیمت پر آم کی مختلف اقسام دستیاب رہیں گی۔ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے مغربی ایشیاء میں جنگی بحران کے نتیجہ میں ہندوستان سے برآمدات پر اثر پڑا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جنگ کے نتیجہ میں آم کی برآمدات 20 تا 30 فیصد گھٹ چکی ہے۔ برآمد کنندگان کو کشیدگی کے نتیجہ میں منتقلی کے لئے سخت چیالنجس کا سامنا ہے۔ تلنگانہ سے ہر سیزن میں تقریباً 7000 میٹرک ٹن آم کی مختلف اقسام متحدہ عرب امارات، امریکہ اور کینیڈا کو برآمد کی جاتی ہیں۔ اکسپورٹرس کا ماننا ہے کہ کشیدگی کے نتیجہ میں وہ آم کو کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں اور اُنھیں حالات کے معمول پر آنے کا انتظار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کو محفوظ کرنا اِس لئے بھی آسان نہیں کیوں کہ 19 تا 25 دن وہ کسی خرابی کے بغیر محفوظ رہ سکتا ہے اور اِس مدت کے بعد وہ اپنی اصلی حالت میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ بین الاقوامی مانگ کو دیکھتے ہوئے اکسپورٹرس آم کی مخصوص اقسام کو کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کررہے ہیں۔ برآمد کیا جانا والا آم قدرتی طور پر پکا ہوا ہوتا ہے اور کیمیکل کے استعمال کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ آم کے ذخیرہ میں اضافہ کے باعث مارکٹ میں درکار قیمت حاصل نہیں ہوپارہی ہے۔ 100 تا 150 روپئے فی کیلو فروخت کئے جانے والے آم کو عوام کو 40 تا 60 روپئے میں خرید رہے ہیں۔ اُمید کی جارہی ہے کہ جاریہ ماہ آم کی برآمدات کا دوبارہ آغاز ہوگا۔ آم کے علاوہ بعض دیگر فروٹس کی برآمدات بھی جنگ کی صورتحال کے باعث متاثر ہوئی ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ہندوستان سے ہر سال تقریباً 10 ہزار میٹرک ٹن آم روانہ کیا جاتا ہے جو برآمدات میں سرفہرست ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کو ہر سال 30 ہزار میٹرک ٹن آم کی برآمد کی جاتی ہے اور اِن میں متحدہ عرب امارات کا حصہ زیادہ ہے۔ کشیدہ صورتحال کے نتیجہ میں ایئر کارگو اور شپمنٹ کے چارجس میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ایئر کارگو کے چارجس 250 روپئے فی کیلو گرام سے بڑھ کر 800 تا 900 روپئے فی کیلو گرام ہوچکے ہیں جبکہ شپمنٹ کی لاگت 1000 ڈالر سے بڑھ کر 2500 ڈالر ہوچکی ہے۔ اکسپورٹرس کا ماننا ہے کہ بیرونی ممالک کے تاجرین زائد قیمت پر آم کی خریدی میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ہر کسی کو صورتحال کے معمول پر آنے کا انتظار ہے تاکہ کارگو اور شپمنٹ کے چارجس میں کمی واقع ہو۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ، امریکہ، کویت اور کینیڈا کو گزشتہ 2 برسوں میں آم کی برآمدات میں اضافہ ہوا اور حالات کے معمول پر آنے کی صورت میں اُمید کی جارہی ہے کہ برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔1/V/k/b