مغربی ایشیا کے بحران سے اقتصادی ترقی اور مہنگائی پر منفی اثر پڑے گا:آر بی آئی

   

نئی دہلی، 29 مئی (یواین آئی) مغربی ایشیا کے بحران اور اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملک کی اقتصادی ترقی اور مہنگائی کیلئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں، اگرچہ ترقی کے امکانات اب بھی مثبت ہیں۔ انڈین ریزرو بینک (آر بی آئی) نے جمعہ کو جاری اپنی سالانہ رپورٹ 2025-26 میں کہا کہ ہندوستانی بینکاری نظام کے مستحکم رہنے کی امید ہے ، تاہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی چین میں مسلسل رکاوٹیں قریبی مستقبل میں کارپوریٹ آمدنی اور بینکوں کے قرض جاتی پورٹ فولیو کی کارکردگی کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔ رپورٹ میں مغربی ایشیا کے بحران اور اس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے ، سپلائی چین میں خلل، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارتی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور موسمی خدشات کے سبب اقتصادی ترقی اور افراطِ زر (مہنگائی) پر منفی اثرات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ مرکزی بینک نے کارپوریٹ اداروں اور بینکوں کی مضبوط مالی حالت، حکومت کی جانب سے سرمایہ جاتی اخراجات پر مسلسل زور، اور اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے نفاذ کے ذریعے سرمایہ کاری اور ترقی کی رفتار برقرار رہنے کی امید ظاہر کی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر مضبوط بنیادی اقتصادی صورتحال اور مستحکم بیلنس شیٹس کی بدولت ملکی مالیاتی نظام منفی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت کا مالیاتی توازن برقرار رکھنے کا عزم اور ریزرو بینک کی جانب سے لیکویڈیٹی بڑھانے کے اقدامات بانڈ ییلڈز پر دباؤ کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ ہندوستانی معیشت مضبوط ہے ، لیکن مغربی ایشیا کے بحران کے سبب خام تیل، کھاد اور سونے کی بلند قیمتوں سے زرمبادلہ کے اخراجات پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان بین الاقوامی کھاد اور سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا بھی سامنا کر رہا ہے ۔ ان تینوں کی ادائیگی غیر ملکی زرمبادلہ میں کرنی ہوگی، وہاں روپے میں تجارت نہیں ہو رہی۔