محمود علی خان
حیدرآباد۔ 31 اگست: ٹینک بنڈمیں واقع سیدانی ما کا مقبرہ اور اس سے ملحقہ باولی کو بحال کردیا گیا ہے جس میں ان کے پیچیدہ پلاسٹر ، جالی کے پردے اور چونے ک پلاسٹر ایک بار پھر حیدرآباد کے ہند۔ اسلامی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ مقبرہ جو کہ نواب عبدالحق دلیر جنگی نے 1883 میں اپنی والدہ سیدانی ما نصاحبہ کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ برسوں سے نظر انداز ہونے کے بعد خستہ حالی کا شکار ہوگیا تھا۔ اس کا پلاسٹر ٹوٹ چکا تھا جبکہ باولی منہدم حصوں کے ساتھ کھنڈر میں تھا۔ بحالی کے لئے تقریباً 30 فٹ کی گہرائی تک کھدوائی اور شروع سے دوبارہ تعمیر کی ضرورت ہے۔ تحفظ شروع ہونے سے پہلے آرکائیو کی تحقیقی اور مادی مطالعہ کئے گئے تھے۔ کاریگروں نے یادگار کی اصل شان کو برقرار رکھنے کے لئے روایتی اوزار اور چونے کے مارٹر کا استعمال کیا۔ آغا خان ٹرسٹ فار کلچر، انڈیا کے سی ای او رتیش نندا نے کہا کہ سیدانی ما مقبرہ اور باولی کو محکمہ ثقافتی ورثہ، تلنگانہ کی نگرانی میں ایچ ایم ڈی اے کی فنڈنگ سے محفوظ کیا گیا ہے۔