نئی دہلی، 10 جون (یو این آئی) پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک کے دوران 11 شہریوں کی ہلاکت کے باوجود دوسرے دن بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مظاہرین کا ہجوم راولاکوٹ کی طرف مارچ کر رہا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق، پاکستانی فوج کے جبر کے بعد پورے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف غصہ بے حد بڑھ گیا ہے ۔ اپنے سیاسی، معاشی اور شہری حقوق کا مطالبہ کر رہے مظاہرین نے پیچھے ہٹنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور تحریک کو مزید تیز کر دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق، اس وقت راولاکوٹ، باغ، ہٹیاں بالا، کوٹلی، میرپور، سدھنوتی، دھیرکوٹ، ڈڈیال اور مظفرآباد میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ مظاہروں میں شامل ہیں، جو ہاتھوں میں ڈنڈے اور بینر لے کر آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، پورے مقبوضہ کشمیر سے مظاہرین کے بڑے بڑے قافلے آج رات تک راولاکوٹ میں اکٹھا ہو جائیں گے ، جو اس خطے کا پاکستانی حکومت کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ راولاکوٹ میں جمع ہونے کے بعد ان تمام مظاہرین کی منصوبہ بندی ایک ساتھ مظفرآباد کی طرف مارچ کرنے کی ہے ، جہاں وہ بڑی تعداد میں گھیراؤ کر کے اپنے 38 مطالبات کو منظور کروانے کا دباؤ ڈالیں گے ۔ دوسری طرف، فوج کی اس کارروائی کے باعث انسانی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ کل کی فائرنگ میں شدید طور پر زخمی ہوئے 38 سے زائد لوگ ہسپتال میں داخل ہیں، جن میں سے کئی کی حالت نازک بنی ہوئی ہے ۔ مظاہرین کے مطالبات ماننے کے بجائے پاکستانی انتظامیہ نے سختی اور بڑھا دی ہے ، حکومت نے تحریک کے چار اہم منتظمین پر بغاوت کا مقدمہ درج کر کے ان پر ایک کروڑ پاکستانی روپئے کا انعام مقرر کر دیا ہے ۔پاکستانی حکام نے اس تحریک کے اہم رہنماؤں کو ’ہندوستانی ایجنٹ‘ کہنا بھی شروع کردیا ہے ، جو کہ بے بنیاد ہے ۔ پاکستان میں فوج اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے سیاست دانوں، حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو دبانے کے لیے وہاں کا نظام اکثر اسی طرح کے الزامات لگاتا رہا ہے ، جیسا کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم عمران خان، ان کے حامیوں اور علاقائی تحریکوں کے ساتھ بھی دیکھا گیا تھا۔ مظاہرین کو دارالحکومت مظفرآباد پہنچنے سے روکنے کے لیے انتظامیہ نے پورے خطے میں کئی اہم سڑکیں بند کر دی ہیں۔ گاڑیوں کے قافلے کو روکنے اور ان کی رفتار دھیمی کرنے کے لیے کئی اہم شاہراہوں اور راستوں پر بڑے بڑے درخت کاٹ کر ڈال دیے گئے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں عام لوگ کا سڑکوں پر اُترنا یہ صاف دکھاتا ہے کہ اس علاقے میں پاکستان کے خلاف غصہ کتنا گہرا ہے ۔ بنیادی حقوق کے مطالبے سے شروع ہوئی یہ تحریک اب اس خطے پر پاکستان کے حکمرانی اور کنٹرول کے خلاف ایک بڑی بغاوت بن چکی ہے اور یہ ہندوستان کے لیے ایک اہم صورتحال ہے ۔