جھارکھنڈ ہائیکورٹ کے احکام ۔ 15 ستمبر تک ریاستی حکومت سے جواب طلبی ۔ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ طلباء کا شدید ردعمل
رانچی 20 اگسٹ ( ایجنسیز ) جھارکھنڈ میں ہائیکورٹ نے ریاستی حکومت کے ایک اعلامیہ پر امتناع عائد کردیا ہے جس کے ذریعہ حکومت نے سرکاری ملازمتوں کیلئے ہوئے امتحانات کو منسوخ کردیا تھا ۔ حکومت نے 11 ویں جھارکھنڈ پبلک سرویس کمیشن امتحانات اور 13 ویں جھارکھنڈ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات کو منسوخ کرنے کے احکام جاری کئے تھے جن پر ہائیکورٹ نے آج حکم التواء جاری کردیا ۔ ہائیکورٹ نے فوڈ سیفٹی آفیسرس کے تقررات کو منسوخ کرنے والے احکام پر بھی حکم التواء جاری کیا ہے اور ریاستی حکومت سے 15 ستمبر تک جواب داخل کرنے کو کہا ہے ۔ عدالت نے اس مسئلہ پر آئندہ سماعت 15 ستمبر کو مقرر کی ہے ۔ واضح رہے کہ جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت نے ریاست میں احتجاج کر رہے طلباء کے مطالبہ پر جھارکھنڈ پبلک سرویس کمیشن اور دیگر سرکاری بھرتیوں کے تقررات کیلئے ہوئے امتحانات کو منسوخ کرنے کے احکام جاری کئے تھے ۔ ان احکام کو کچھ امیدواروں کی جانب سے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت نے حکم التواء جاری کردیا ہے ۔ اس دوران جھارکھنڈ میں احتجاج کئے طلباء نے ہائیکورٹ سے حکم التواء جاری کئے جانے کے بعد ہیمنت سورین حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ جس وقت عدالت میں مفاد عامہ درخواست کی سماعت ہو رہی تھی اس وقت جھارکھنڈ کے ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ طلباء لیڈر کنال پرتاپ سنگھ نے کہا کہ جے پی ایس سی ۔ جے ایس ایس سی اصلاح منچ نے 26 دن تک احتجاج کیا تھا ۔ بدلے میں طلباء کو کیا ملا ہے ؟ ‘ دھوکہ ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ چیف منسٹر کا خود کا کوئی کیس ہوتا تو سینئر وکلا جیسے کپل سبل دہلی سے پہونچ جاتے لیکن جب طلباء کے مسائل کی ہائیکورٹ میں سماعت ہو رہی تھی ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی سینئر وکیل موجود تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جو وکیل عدالت میں موجود تھے انہوں نے ایک لفظ تک نہیں کہا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ طلباء کے احتجاج کو ختم کروانے کیلئے ایک جال بچھایا گیا تھا ۔ طلباء کے 26 دن کے احتجاج کو بے سود کردیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ طلباء اب نئی جدوجہد شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔