ملازمت سے برطرفی کا خوف، 3آر ٹی سی ملازمین کی موت

,

   

حیدرآباد: آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے سبب ملازمت سے برطرفی سے خوفزدہ ایک آر ٹی سی ڈرائیور کے علاوہ ایک آر ٹی سی ملازمہ کے شوہر کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔ خبررساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایک دیگر آر ٹی ملازم جو حکومت کے خلاف دھرنا دے کر لوٹ رہا تھا دل کے دورہ کی وجہ سے موت واقع ہوگئی۔ بتایا گیا ہے کہ سنگاریڈی کے ساکن 48سالہ شیخ خلیل میاں جو ایچ سی یو ڈپو سے وابستہ تھے گذشتہ پانچ دنو ں سے ہڑتال اور ملازمت سے برطرفی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے انتباہ سے سخت پریشان تھے۔ اسی مایوسی میں انہیں دل کا دورہ پرنے سے موت ہوگئی۔

خلیل میاں کے افراد خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی اچانک موت کے ذمہ دار چیف منسٹر ہے جنہوں نے ملازمین کو برطرف کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ایک دوسرے واقعہ میں آر ٹی سی کی ملازمہ ناگارانی کے شوہر کشورکی بھی موت ہوگئی۔ کشور اپنی بیوی کی ملازمت کے سلسلہ میں کافی فکر مندتھے۔انہیں خوف تھا کہ ان کی اہلیہ کی نوکری چلی جائے گی۔ انہوں نے دو دن سے کھانا پینا بھی بند کردیا تھا۔ کل رات حالت نیند میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ یہ واقعہ بھی سنگاریڈی کا بتایا گیا ہے۔ ایک اور واقعہ جو آج پیش آیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی ایس آر ٹی سی) کے ملازمین حکومت کے خلاف دھرنا دے رہے تھے۔

اسی دوران57سالہ کوماریا جو ڈرائیور ہے دھرنا دے کر اپنے لوٹا کچھ دیر بعد انہیں دل کا دورہ پڑا جس کے باعث ان کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ 57سالہ کوماریا آر ٹی سی میں بس ڈرائیور ہے۔ وہ دھرنا دینے کے بعد گھر واپس لوٹا۔ کچھ دیر بعد ا س طبیعت خراب ہوگئی اور وہ گر پڑا۔ اسے فوری قریبی ہاسپٹل لیجایا گیا جہا ں ڈاکٹرس نے انہیں مردہ قرارا دیدیا۔ پولیس نے بتایا کہ کوماریاچنگی چرلہ ڈپو کے ملازمین کی جانب سے منعقد کئے گئے دھرنا میں حصہ لیا تھا۔ متوفی کے افراد خاندان کی جانب سے تاحال کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی۔“ واضح رہے کہ 50ہزار آر ٹی سی ملازمین پچھلے 6دنوں سے ہڑتا ل پر ہیں ۔