ملک بھر میں انفارمیشن کمشنران کی میعاد 3 سال کردی گئی

   

پانچ سالہ میعاد میں تخفیف ۔ حکومت کی جانب سے نئے آر ٹی آئی قوانین کی اجرائی
نئی دہلی 25 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے ملک بھر میں انفارمیشن کمشنران کی معیاد کو گھٹاتے ہوئے تین سال کردیا ہے ۔ شفافیت لانے والے پیانلس میں انفارمیشن کمشنران کی معیاد تخفیف کے تعلق سے آر ٹی آئی قوانین کو کل رات جاری کیا گیا ۔ ملک بھر میں آر ٹی آئی کارکنوں نے اس تخفیف کو انفارمیشن کمشنران کی آزادی اور خود اختیاری پر حملہ قرار دیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے حق معلومات قانون 2005 میں ترمیم ماہ جولائی میں تھی اور اس کے ذریعہ چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنران کو جو چیف الیکشن کمشنر اور دوسرے الیکشن کمشنران کے ساتھ جو مساوی موقف حاصل تھا اسے ختم کیا گیا تھا ۔ اب انفارمیشن کمشنران کی تنخواہوں ‘ الاونس اور دوسری شرائط اور سہولیات کے تعلق سے حکومت ہی کی جانبس ے فیصلہ کیا جائیگا ۔ اس زمرہ میں نہ صرف چیف انفارمیشن کمشنر اور مرکزی کمیشن کے انفارمیشن کمشنران آتے ہیں بلکہ ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر اور ریاستی انفارمیشن کمشنران بھی شامل ہونگے ۔ ان قوانین میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الاونس اور خدمات کے حالات اور سہولیات کے تعلق سے اپنے طور پر فیصلہ کرے ۔ اب کمشنران کی معیاد میں تخفیف کرتے ہوئے اسے محض تین سال کردیا گیا ہے جبکہ جو 2005 کا اصل قانون تھا اس کے مطابق ان کی معیاد پانچ سال مقرر تھی یا پھر اگر ان کی وظیفہ پر سبکدوشی تک ہوتی تھی ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تخفیف اس لئے کی گئی ہے کہ انفارمیشن کمشنران اپنے اختیارات کا انتظامیہ کے سینئر ترین عہدیداروں کے تعلق سے بھی استعمال کریںا ور انہیں اپنے عہدہ کی فکر نہ رہے ۔ کہا گیا ہے کہ چیف انفارمیشن کمشنرکی تنخواہ ڈھائی لاکھ روپئے اور انفارمیشن کمشنران کی تنخواہ اس سے 25 ہزار روپئے کم مقرر کی گئی ہے ۔ اس تعلق سے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کئی آر ٹی آئی کارکنوں نے جو قوانین نافذ کئے جا رہے ہیں ان کے باعث اب ان کمشنران کو ان کے عہدہ سے ہٹاکر کسی دوسرے سرکاری محکمہ کو منتقل کیا جاسکتا ہے ۔