امتحانی بے ضابطگیاں کسی کامیڈی سے کم نہیں ، کانگریس ہیڈکوارٹر میں این ایس یو آئی کے کنہیا کمار کی پریس کانفرنس
نئی دہلی،27 مئی (یو این آئی ) نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے انچارج کنہیا کمار نے ملک میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی خودکشی اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ چہارشنبہ کے روز کانگریس ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کی بدحالی طلبہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے ۔کنہیا کمار نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اوسطاً ہر ایک گھنٹے میں دو طلبہ خودکشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے لیے امتحانی بے ضابطگیاں شاید ایک “کامیڈی” ہوں، لیکن طلبہ کے لیے یہ ایک المیہ ہے ۔میڈیا کا ایک بڑا حصہ اصل مسائل کے بجائے غیر ضروری موضوعات پر بحث کرتا ہے ، جبکہ طلبہ کے مستقبل اور پیپر لیک جیسے سنگین معاملات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) کے تحت ہونے والے امتحانات، خصوصاً نیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ ہر سال شکایات سامنے آتی ہیں، لیکن نہ تو وزیر تعلیم استعفیٰ دیتے ہیں اور نہ ہی کوئی ٹھوس کارروائی ہوتی ہے ۔ انہوں نے جی ڈی ایس ایس سی امتحانات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرکز پر 800 امیدواروں کو بلایا گیا جبکہ وہاں بیٹھنے کی گنجائش صرف 250 تھی۔ انہوں نے وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو وزیراعظم “پریکشا پہ چرچا” (امتحانات پر گفتگو) کرتے ہیں، وہ پیپر لیک ہونے پر مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔کنہیا کمار نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو “نااہل” قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈین یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی مسلسل پیپر لیک اور تعلیمی گھوٹالوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی اس مسئلے کو مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ این ایس یو آئی کی جانب سے درج ذیل مطالبات پیش کیے گئے ۔ وزیراعظم پیپر لیک کے معاملات پر اپنی خاموشی توڑیں۔ نااہلی کی بنیاد پر وزیر تعلیم کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ۔ پیپر لیک روکنے کے لیے ‘زیرو ٹالرینس’ پالیسی کے تحت سخت ترین قانون بنایا جائے ۔ این ٹی اے کی قیادت اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان سیاسی تعلقات کی تحقیقات کی جائے ۔