ملک کی جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار

   

محمد اسد علی ایڈوکیٹ
اس بات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہیکہ ہمارے ملک میں نظام انصاف رسانی کس حد تک سرگرمی کے ساتھ کام کررہا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہیکہ عام طور پر بے قصور لوگوں کو جیلوں میں بھردیا جاتا ہے اور پھر انہیں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا ہے۔ اگر ملزم یا قیدی بے قصور ہو جیسا کہ بہت سے معاملات میں ہوتا ہے ایسی صورت میں عدلیہ کی جانب سے فوری انصاف رسانی پیش ہوتی ہے بلکہ ملزم یا قیدی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گذارتے ہیں حالانکہ نظام عدلیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انصاف کی نشانی ہے لیکن معاملات اس کے برعکس ہیں۔ بہت سے بے قصور ملزم یا قیدی جو قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ان سے انصاف تو درکنار ان کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دیتا ہے بالخصوص اقلیتوں کے معاملے میں اس بات کا عام طور پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے بے قصور لوگ جن میں اکثر مسلمان ہوتے ہیں انہیں بالخصوص نا انصافی اور ایزا رسانی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جیل میں کسک کسک کر دم توڑ دیتے ہیں اور پھر خاموشی کے ساتھ انہیں یا ان کی نعشوں کو ورثہ کے حوالے کردیا جاتا ہے جو رو پیٹ کر خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ طاقتور عدلیہ اور استغاثہ کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی کے عزیر ترین لوگوں کو انصاف کی چوکٹھ پر پامال ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بعض وقت ایسا بھی ہوتا اگر کوئی فریادی اپنے کسی رشتہ شار یا ساتھی کے بارے میں عدالت سے رجوع ہوتا ہے تو اسے ناکامی کے سواء کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے اور انصاف حاصل کرنے کے بجائے وہ بے بسی کے ساتھ ہاتھ ملتا ہوا ناکام ہو جاتا ہے۔علاوہ ازیں بہت سے لوگوں کو شک کی بنیاد پر جیل کی سلاختوں کے پیچھے ڈھکیل دیا جاتا ہے اور وہاں ایسے شخص کو جیل سے رہا ہونے کے لئے برسوں لگ جاتے ہیں کیونکہ اس کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہوتا ہے لیکن شرمناک بات یہ ہیکہ اگر کسی شخص کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا جاتا ہے تو تصور کیا جائے کہ اس کے اہل عیال، بیوی بچوں کا کیا حال ہوتا ہوگا اور ان پر کیا گذرتی ہے اور اس صورتحال کا اس شخص اور اس کی بیوی بچوں پر نہایت برا ور سنگین اثر پیدا ہوتا ہے اور اگر بچے ہوتو اس کی زندگی برباد ہو جاتی ہے اور ناانصافی کا سلسلہ برسوں جاری رہتا ہے۔ لیگل انڈیا میگزین کے مطابق ہندوستان کی جیلوں میں اس وقت بڑی تعداد میں لوگ قید ہیں جبکہ مبینہ طور پر 5 کروڑ سے زیادہ کیسس اس وقت ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ملزمین یا قیدیوں کی تعداد اس وقت ہندوستان کی جیل میں 52 فیصد ہے اور اس کے منجملہ 47 فیصد مقدمات کا تعلق زیر دریافت قیدیوں سے ہے۔ افسوس کی بات یہ ہیکہ عمر خالد اور شرجیل امام کو 6 سالوں سے جیل کی سلاخوں میں بند کردیا گیا ہے ان کے خلاف ابھی تک چارج شیٹ بھی داخل نہیں کی گئی۔ ٹرائل چلانا تو بہت دور کی بات ہے۔ کیا فریڈم آف اسپیچ جرم ہے؟ کس جرم میں عمر خالد کو جیل بھیجا گیا ہے؟ کیا ہندوستان کے قانون کے لحاظ سے کسی بھی شہری کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کرنا غیر قانونی نہیں ہے؟ اگر عمر خالد بے قصور ہے یا قصوروار ہے تو کیا انہیں عدالت سے ضمانت حاصل کرنا ان کا بنیادی و قانونی حق نہیں ہے؟ اگر ضمانت حاصل کرنا ان کا قانونی حق ہے تو پھر انہیں 6 سالوں سے کیوں ضمانت نہیں دی جارہی ہے؟ ضرورت اس بات کی ہیکہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے مشورہ کے مطابق فوری طور پر فاسٹ ٹریک عدالت قائم کی جائے اور مقدمات کے فیصلہ میں تیزی پیدا کی جائے تاکہ فریقین مقدمات کو بلاوجہ شدید تکلیف نہ ہو۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے یا ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ Lower Courts اور High Courts کے ججس کال ورک کے دوران وقفہ لیتے ہیں جس سے فریقین اور عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ اس پر عمل کرے اور فریقین کے ساتھ انصاف کرے۔ مزید تفصیلات کے لئے اس نمبر 9959672740 پر ربط پیدا کیا جاسکتا ہے۔