اندرون دویوم جواب دینے کی ہدایت، ہائی کورٹ کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی
حیدرآباد۔/31جنوری، ( سیاست نیوز) بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی راجہ سنگھ کوممبئی میں کی گئی نفرت انگیز تقریر پر پولیس منگل ہاٹ نے نوٹس جاری کی ہے۔ اسٹیشن ہاوز آفیسر منگل ہاٹ نے 30 جنوری کو وجہ نمائی نوٹس جاری کرتے ہوئے پی ڈی ایکٹ کی برخاستگی کے موقع پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کردہ شرائط کی خلاف ورزی پر وضاحت طلب کی ہے۔ نوٹس میں راجہ سنگھ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اندرون دویوم اس بات کا جواب دیں کہ ان کے خلاف ہائی کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی پر کارروائی کیوں نہیں کی جائے۔ جواب نہ دینے کی صورت میں قانونی کارروائی کیلئے پولیس مجاز رہے گی۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اشتعال انگیز تقاریر کے سبب پی ڈی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں پی ڈی ایکٹ کے خلاف دائر کردہ درخواست پر عدالت نے بعض شرائط کے ساتھ درخواست کی یکسوئی کی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کردہ شرائط میں مستقبل میں کسی بھی مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تقریر یا کوئی قابل اعتراض اور اہانت آمیز پوسٹ سوشیل میڈیا میں نہ کرنے کیلئے پابند کیا گیا تھا۔ فیس بُک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، یو ٹیوب اور سوشیل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارم پر اشتعال انگیز تقاریر یا پوسٹس کی ممانعت کی گئی تھی۔ 29 جنوری 2023 کو سوشیل میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہوا جو ممبئی کے دادر میں جن آکروش مورچہ ریالی میں کی گئی تقریر ہے۔ اے بی پی ماجھا نامی یو ٹیوب چینل نے اسے اپ لوڈ کیا۔ اس ویڈیو میں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز تقریر ہے۔ لوجہاد، ذبیحہ گاؤ، تبدیلی مذہب کے خلاف اشتعال انگیز الفاظ استعمال کئے گئے۔ نوٹس میں راجہ سنگھ کی تقریر کے قابل اعتراض اور اشتعال انگیز جملوں کا حوالہ دیا گیا۔ پولیس منگل ہاٹ نے نوٹس میں کہا کہ اشتعال انگیز جملے جو کسی مخصوص مذہب کو مشتعل کرنے کیلئے تھے دراصل ہائی کورٹ کی شرائط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وجہ نمائی نوٹس ملنے کے اندرون دو یوم جواب دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ راجہ سنگھ نے ممبئی کے جن آکروش مورچہ ریالی میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ سابق میں اسی طرح کی اشتعال انگیزی پر انہیں پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا تھا۔ چند ماہ تک جیل میں رہنے کے بعد ہائی کورٹ نے شرائط کے ساتھ رہائی کی اجازت دی تھی۔ر