ممبئی میں بکرے کی قربانی کی مخالفت میں خنزیر لانے پر ہنگامہ

   

ممبئی ، 26 مئی (یو این آئی) بقرعید سے قبل تھانے ضلع کے میرا روڈ علاقے میں اس وقت کشیدہ ماحول پیدا ہو گیا جب قربانی کے جانوروں کیلئے بنائے گئے عارضی شیڈ کو لے کر دو برادریوں کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ واقعہ کے بعد علاقہ میں بھاری پولیس بندوبست کر دیا گیا جبکہ بعض مقامات پر پولیس کو لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔ یہ تنازعہ پونم کلسٹر سوسائٹی میں اس وقت شروع ہوا جب مسلم برادری کی جانب سے بقرعید کے موقع پر قربانی کے جانور رکھنے کیلئے ایک عارضی شیڈ تعمیر کیا گیا تھا۔ مقامی ہندو رہائشیوں اور بعض تنظیموں کی جانب سے اعتراض کیے جانے کے بعد میونسپل حکام نے یہ شیڈ منہدم کر دیا۔ اس کے بعد صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق سکل ہندو سماج اور بجرنگ دل سے وابستہ بعض کارکن احتجاجی مقام کے قریب خنزیر لے آئے ۔ مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر بقرعید کیلئے بکرے سوسائٹی میں لائے جا سکتے ہیں تو پھر خنزیر لانے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی اور پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
دونوں برادریوں کے افراد کے درمیان شدید لفظی تکرار ہوئی جس سے اطراف کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں پولیس کی بھاری موجودگی کے درمیان دونوں گروپوں کو ایک دوسرے کے سامنے آتے اور ہنگامہ آرائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق شام کے وقت عارضی شیڈ کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد دوبارہ احتجاج شروع ہو گیا۔ اس دوران حالات مزید خراب ہوئے اور معمولی جھڑپیں بھی پیش آئیں۔ پولیس حکام نے بڑھتی ہوئی بھیڑ اور بگڑتی صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے کئی مقامات پر لاٹھی چارج کیا۔ اس وقت پونم کلسٹر سوسائٹی اور بکرا منڈی کے اطراف حساس علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ۔ حکام کے مطابق صورتحال کشیدہ ضرور ہے لیکن فی الحال قابو میں ہے ۔ سینئر پولیس افسران نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے سے گریز کریں۔ پولیس واقعہ سے متعلق ویڈیوز کا جائزہ لے رہی ہے اور تحقیقات کی بنیاد پر کارروائی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔ دونوں برادریوں کے مقامی افراد نے بھی امن و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے بقرعید سے قبل بڑھتی فرقہ وارانہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے ۔