ایک ہفتہ تک روزانہ سماعت، چیف جسٹس الوک ارادھے نے سکریٹری لیجسلیچر کی رِٹ پٹیشن پر سماعت مکمل کرلی
حیدرآباد۔/12 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے بی آر ایس کے منحرف ارکان سے متعلق مقدمہ کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ الوک ارادھے اور جسٹس سرینواس راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ پر گذشتہ ایک ہفتہ سے مقدمہ کی روزانہ سماعت جاری تھی۔ سکریٹری لیجسلیچر نے سنگل جج کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کی ہے۔ سنگل جج نے سکریٹری لیجسلیچر کو ہدایت دی تھی کہ منحرف ارکان کے خلاف بی آر ایس کی جانب سے جو شکایت کی گئی ہے اسے اسپیکر کے روبرو پیش کرتے ہوئے سماعت کا شیڈول مقرر کیا جائے تاکہ منحرف ارکان کے خلاف شکایت کی جاسکے۔ سکریٹری لیجسلیچر نرسمہا چاریلو نے سنگل جج کے فیصلہ کو چیلنج کیا جس میں کہا گیا کہ اسپیکر اسمبلی کو منحرف ارکان کے خلاف درخواستوں کی سماعت کا مکمل اختیار ہے اور عدالت کی جانب سے انہیں کوئی ہدایت نہیں دی جاسکتی۔ ایک ہفتہ تک حکومت، منحرف ارکان اور بی آر ایس ارکان کے وکلاء کی جانب سے روزانہ مباحث جاری رہے۔ چیف جسٹس نے آج بحث کی تکمیل پر فیصلہ محفوظ کردیا۔ بی آر ایس کے وکیل موہن راؤ نے آج اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکریٹری لیجسلیچر کو اختیار نہیں کہ وہ سنگل جج کے احکامات کو چیلنج کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو منحرف ارکان کے خلاف شکایتوں کی جلد یکسوئی کرنی چاہیئے۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے اسپیکر کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ عدلیہ کو مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ بی جے پی رکن مہیشور ریڈی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تین منحرف ارکان کے خلاف شکایت اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ روانہ کی گئی تھی لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے سبب درخواست گذاروں کو ہائی کورٹ سے رجوع ہونا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ناگیندر بی آر ایس کے ٹکٹ پر اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے لیکن استعفی دیئے بغیر ہی کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن میں حصہ لیا۔ واضح رہے کہ سنگل جج نے 9 ستمبر کو فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد سکریٹری لیجسلیچر کی جانب سے تین درخواستیں دائر کی گئیں۔ بی آر ایس کی جانب سے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کیلئے قانونی جدوجہد کو تیز کردیا گیا ہے۔1
منحرف ارکان ڈی ناگیندر، کڈیم سری ہری اور ٹی وینکٹ راؤ کو نااہل قرار دینے کی درخواست داخل کی گئی۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر سیاسی حلقوں کی گہری نظر رہے گی۔1