منصفانہ اور باضابطہ طریقۂ کار کے بغیر آسام کے 1.9 ملین افراد نشانہ

   

این آر سی کیخلاف ایک امریکی کمیشن کی رپورٹ میں حکومت ہند کی مذمت

واشنگٹن ، 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آسام میں این آر سی مساعی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت کے آزاد اور دو پارٹیوں سے متعلق ادارہ نے کہا ہے کہ اس ہندوستانی ریاست کے دیرینہ متوطن تقریباً دو ملین افراد عنقریب بے ریاست کئے جاسکتے ہیں اور الزام عائد کیا کہ انھیں کسی منصفانہ، شفاف اور اچھی طرح منظم عمل کے بغیر اُن کی شہریت سے محروم کیا جارہا ہے۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کے مذہبی آزادی پر اثرات کے بارے میں رپورٹ میں یونائیٹیڈ اسٹیٹس کمیشن فار انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم نے نشاندہی کی ہے کہ آسام کے مکینوں کے 1.9 ملین ناموں کو تازہ فہرست سے حذف رکھا گیا ہے اور تشویش ظاہر کی کہ کس طرح اس عمل کے ذریعے مسلم آبادی کو نشانہ بنانے اور رائے دہی کے حق سے محروم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ این آر سی ایسا رجسٹر ہے جس میں تمام جائز ہندوستانی شہریوں کے نام شامل ہیں۔ آسام میں اس رجسٹر کو اَپ ڈیٹ کرنے کا عمل 2013ء میں ایک سپریم کورٹ حکمنامہ کے پیش نظر شروع کیا گیا، جس میں ریاست کے لگ بھگ 31 ملین افراد کو یہ ثابت کرنے کا چیلنج ملا کہ وہ 24 مارچ 1971ء سے قبل ہندوستانی شہریان رہے ہیں۔ تازہ قطعی این آر سی کو 31 اگست کو جاری کردیا گیا، جس میں زائد از 1.9 ملین درخواست گزار جگہ پانے سے قاصر ہوئے۔ کمشنر امریکی کمیشن انوریما بھارگھو نے گزشتہ روز کہا کہ آسام کے تقریباً دو ملین دیرینہ مکینوں کو عنقریب ریاست سے بے تعلق قرار دیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی منصفانہ اور شفاف اور باضابطہ طریقۂ کار کے بغیر انھیں اُن کی شہریت سے محروم کیا جارہا ہے۔ مزید بدتر بات یہ ہے کہ ہندوستانی سیاسی قائدین بار بار اپنے ارادے کا اظہار کررہے ہیں کہ این آر سی عمل کو استعمال کرتے ہوئے آسام کے مسلمانوں کو الگ تھلگ کرتے ہوئے انھیں نکال باہر کیا جائے۔ اور اب پورے ہندوستان میں سیاسی قائدین این آر سی کو وسعت دیتے ہوئے مسلمانوں کیلئے شہریت کیلئے بالکلیہ مختلف معیارات پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔ انوریما بھارگو نے اس مسئلہ پر گزشتہ ہفتے ایک کانگریسی کمیشن کے روبرو حلفیہ بیان دیا ہے۔ امریکی کمیشن کے صدرنشین ٹونی پرکنس نے کہا کہ تازہ این آر سی اور اس کے بعد ہندوستانی حکومت کی کارروائیاں لازماً ’’شہریت کیلئے مذہبی آزمائش‘‘ پیدا کررہی ہیں تاکہ مخدوش مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا جاسکے۔ انھوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ اپنے تمام مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے جیسا کہ دستور میں صراحت ہے۔ امریکی کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ 2019ء میں انڈیا کو ایسے ممالک کے زمرہ میں رکھا جو بین الاقوامی قانون مذہبی آزادی کے تحت مذہبی آزادی کی خلاف ورزی میں ملوث ہورہے ہیں یا ایسی خلاف ورزی کو برداشت کررہے ہیں۔ رپورٹ کے انڈیا سے متعلق باب میں این آر سی کو مسلمانوں کے خلاف دانستہ عمل قرار دیا ہے۔

یشونت سنہا کا کل سے دورہ کشمیر
نئی دہلی ۔ 20 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک سیول سوسائٹی گروپ جس میں سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا شامل ہیں، 22 نومبر سے جموں و کشمیر کا 4 روزہ دورہ کرے گا تاکہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد خطہ کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے۔ مرکزی حکومت کے اقدام نے سابقہ ریاست کے خصوصی درجہ کو ختم کرتے ہوئے اسے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کردیا ہے۔ کنسرنڈ سٹیزنس گروپ کے ارکان 25 نومبر کو واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں اور پھر وہاں کے حالات کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کریں گے ۔ یشونت سنہا نے کہا کہ اس گروپ نے ستمبر میں بھی وادی کا دورہ کیا تھا حالانکہ انہیں حکام نے سری نگر ایرپورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔