منصوبہ بند انداز میں میرے خلاف کردار کشی کی مہم: ایٹالہ راجندر

   

چیف منسٹر کے فارم ہاؤز کی سڑک غیر قانونی،نئی پارٹی کے قیام کا منصوبہ نہیں، حامیوں سے مشاورت کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل

حیدرآباد: اراضی پر ناجائز قبضوں کے الزامات کے تحت ریاستی کابینہ سے برطرفی کے بعد پہلی مرتبہ سابق وزیر ایٹالہ راجندر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ان پر اراضیات پر قبضہ کا الزام عائد کرنے والے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے فارم ہاؤز کی سڑک خانگی اور پسماندہ طبقات کو الاٹ کردہ اراضی پر تعمیر کی گئی ہے۔ اراضی معاملات کی تحقیقات کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے راجندر نے کہا کہ سیاسی کیریئر میں انہوں نے کوئی بھی غلط کام نہیں کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راجندر نے نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی اطلاعات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہاکہ نئی پارٹی کے قیام کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ حضور آباد اسمبلی حلقہ کے قائدین ، کارکنوں اور عوام سے مشاورت کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منصوبہ بند انداز میں الزام تراشی کے ذریعہ ان کی کردار کشی کی سازش کی گئی ہے ۔ راجندر نے کہا کہ اچانک برسر اقتدار پارٹی کے چیانل اور اخبار میں ان کے خلاف الزام تراشی کا آغاز کیا گیا اور وہ وقت آنے پر سازش میں ملوث افراد کو بے نقاب کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص صرف پارٹی کے سہارے کامیابی حاصل نہیں کرسکتا بلکہ اسے عوام کی تائید ضروری ہے۔ عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کے ساتھ کام کیا تھا ۔ 2008 ء میں پارٹی کی ہدایت پر انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ بھی دیا۔ پارٹی نے جو ذمہ داری دی ، اس کو انہوں نے بحسن خوبی انجام دیا ہے ۔ میں نے کبھی بھی پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ گزشتہ تین دنوں سے ان کے خلاف منصوبہ بند طریقہ سے مہم چلائی جارہی ہے۔ راجندر نے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ چیف منسٹر نے ان کے خلاف سرکاری مشنری کا استعمال کیا ہے۔ مجھ جیسے عام آدمی پر کروڑہا روپئے کمانے کا الزام عائد کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمنا ہیچریز سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی اہلیہ اس کی مالک ہیں اور وہی انتظامات چلاتی ہیں۔ راجندر نے کہا کہ الزامات عائد کرنے سے قبل اس معاملہ میں ان کا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ راجندر نے کہا کہ وہ مقدمات اور گرفتاری سے ڈرنے اور گھبرانے والے نہیں ہیں۔ یکطرفہ تحقیقات کو وہ عدالت میں چیلنج کریں گے ۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ اراضی معاملات کے حقائق کا پتہ چلانے کیلئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کلکٹر اور دیگر عہدیدار چیف منسٹر کی ہدایات کے مطابق رپورٹ پیش کرتے ہیں۔ کلکٹر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ بکواس اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے ہمیشہ حکومت میں پوری ذمہ داری اور دیانتداری سے کام کیا ہے اور کبھی بھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ناگرجنا ساگر میں صرف کے سی آر کے سبب کامیابی نہیں ملی بلکہ وہ قائدین کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ راجندر نے کہا کہ میرے خلاف ریونیو ویجلنس اور فاریسٹ عہدیداروں کو تحقیقات کی ہدایت دی گئی اور چیف منسٹر آفس کے اشارہ پر رپورٹ تیار کی گئی ۔ تلنگانہ تحریک اور حکومت میں ہمیشہ میں نے سنجیدگی کے ساتھ پارٹی کے استحکام کے لئے کام کیا ہے۔ تلنگانہ تحریک سے قبل پولٹری انڈسٹری سے میرا تعلق رہا۔ اگر میں نے کمزور طبقات کو الاٹ کردہ اراضی خریدی ہے تو میں سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوئی نوٹس دیئے بغیر ہی ان کے خلاف رپورٹ تیار کرلی ہے۔ میری قیامگاہ کے اطراف پولیس کو تعینات کرتے ہوئے گرفتارکرنے کی اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں۔ میں کسی بھی مقدمہ یا گرفتاری سے خوفزدہ نہیں ہوں گا۔ ایک سوال کے جواب میں راجندر نے کہاکہ وہ پارٹی قائدین اور حلقہ کے رائے دہندوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔